Allama Muhammad iqbal biography

Allama Muhammad iqbal biography in english and urdu

here is first , Allama Muhammad iqbal biography in urdu

ولادت

علامہ اقبال کی ولادت 9 نومبر 1977 کو ہوئ ۔ والد نے محمد اقبال نام تجویز کیا ۔

you can learn more about Allama iqbal family background history

علامہ کے والد کا نام شیخ نور محمد جبکہ والدہ کا نام امام بی بی تھا ۔ علامہ کا ایک بھائ جبکہ چار بینیں تھیں ۔ بھائ کا نام شیخ عطا محمد اور بہنوں کے طالع بی بی ، فاطمہ بی بی ، کریم بی بی اور زریاب بی بی تھے

you can learn more about Allama iqbal marriage history

 

سر کا خطاب

1923۶ کے پہلے ہی دن علامہ اقبال کو سر کا خطاب دیا گیا۔ علامہ اقبال کو یہ خطاب اس وقت کی حکومت کی طرف سے گورنر سر ایڈورڈ میکیگن نے دیا ۔ اور اس خطاب کی سفارش نواب سر ذولفقار علی خان نے کی ۔

علامہ کسی خطاب کے خواہاں نہ تھے مگر اس زمانے میں ملک کی عوام میں سیاسی لیڈروں نے خطابات کے خلاف نفرت پیدا کر رکھی تھی اور لوگ عام طور پر خطاب کو غیر ہر دل عزیزی کا سامان سمجھنے لگے تھے ۔

جب گورنر نے علامہ سے خطاب کے خواۂش کا اظہا کیا تو علامہ نے صاف انکار کر دیا ۔

جس پر گورنر سمجھے کہ علامہ اقبال بھی اس معاملے میں عوام ہی کی ہم خیال ہیں لیکن جب علامہ نے کہا کہ اگر آپ کو اصرار ہے تو خیر ، ہوں ہی سہی تو گورنر صاحب کے چہرے پر شگفتگی کے آثار نمایاں ہو گئے ۔

اقبال اور گاندھی

یعنی اگرچہ علامہ اقبال کو قومیت متحدہ کے تصورات سے اختلاف تھا ، لیکن چوکہ وہ استعمار کے سخت مخالف تھے ،

اس لیے اختلاف کے باوجود مجاہدین حریت کی بہادری اور اولوالعزمی اور ایثار پیشگی ان کے نزدیک محبوب تھی اور وہ ان کی مخالفین کی حمایت کسی حال میں نہ کر سکتے تھے ۔

انہیں دنوں علامہ نے گاندھی جی کے عزم بلند اور ان کی بے سروسامانی پر نہایت خلوص و قدردانی کے جذبے سے چند اشعار آب دار ارشاد فرماۓ۔

گاندھی سے ایک روز یہ کہتے تھے مالوی
کمزور کی کمند ہے دنیا میں نا رسا

نازک یہ سلطنت صفت برگ گل نہیں
لے جاۓ گلستان سے اُڈا کر جسے صبا
گاڈھا ادھر ہے زیب بدن اور اُدھر زرہ
صر صر کی رہ گزار میں کیا عرض تو تیا

پس کر ملے گا گرد رہ روزگار میں
دانہ جو آسیا سے ہوا قوت آزما
بولا نہ بات سن کے کمال وقار سے
وہ مرد پختہ کار و حق اندیش و با صفا

” خارا حریف سعی ضعیفاں نمی شود
صد کوچہ ایست در بن دنداں خلال را ”
( زمیندار 13 نومبر 1921۶ )

سلطان ٹیپو

حضرت علامہ ٹیپو سلطان کے عاشق تھے اور متعرد بار ان کی تعریف میں اشعار بھی لکھ چکے تھے ، اب سفر دکن پیش آیا تو حیدر علی اور ٹیپو سلطان کے مزاروں پر بھی پہنچے ۔

سلطان شہید کے مزار پر ایک میسوری شاعر نے ایک نظم سنائ جس سے علامہ بے حد متاثر ہوۓ اور اوّل سے آخر تک آبدیدہ رہے ۔

علامہ فرماتے ہیں : ” میسور میں جہاں کہیں بھی گیا ، لوگوں کی زبانوں پر ایک ہی نام تھا یعنی سلطان شہید کا نام۔جہاں دو تین آدمیوں کی محفل گرم ہوتی ، ایک ہی قصہ تھا ،

ایک ہی رنگین داستان تھی جسے ہر کوئ بیان کرتا اور سب لوگ ادب سے سر جھکاۓسنتے اور وہ سلطان شہید کی معرکہ آرازندگی کا ماجرا تھا ، بازاروں میں دکان داروں کا موضوع سخن بھی یہ ہی تھا ۔

دو تین مجلسوں میں جہاں جانے کا مجھے اتفاق ہوا ، یہ بھی باتیں ہوتی رہیں ، میں نے عمراً کئ مرتبہ گفتگو کا رخ دوسری باتوں کی طرف پھیرا لیکن ہر بار پھر سلطان ٹیپو کا تزکرہ آجاتا ۔

Allama Muhammad iqbal biography in urdu

لیگ کے اجلاس الٰہ آباد کی صدارت

علامہ اقبال کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کا صدر منتخب کیا گیا جو دسمبر ۱۹۳۰ کو بمقام الٰہ آباد منعقد ہوا ۔

اس موقع پر حضرت علامہ اقبال نے جو خطبہ صدارت ارشاد فرمایا وہ خیالات کی وسعت و بلندی ، لہجے کی صداقت ، ذبان کی دلفریبی اور مطالب سیاسی کی فراوانی کے اعتبار سے بے نظیر دستاویز تھی ،

پھر حسن اتفاق سے یہ ہی تقریر تھی جس میں علامہ اقبال نے تجویز پاکستان کی بنیاد رکھ دی اور فرمایا :
” مجھے یقین ہے کہ یہ اجتماع اُن تمام مطالبات کی نہایت شدومد سے تائید کرے گا جو اس قرارداد میں موجود ہیں ( آل مسلم پارٹیز کانفرنس کی قرارداد ) ۔

زاتی طور پر تو میں ان مطالبات سے بھی ایک قدم آگے بڑھنا چاہتا ہوں ، میری خواہش ہے کہ پنجاب ، صوبہ سرحد ، سندھ اور بلوچستان کو ایک ہی ریاست میں ملا دیا جاۓ خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیار حاصل کرے یا باہر رہ کر ۔

مجھے تو نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظّم اسلامی ریاست قائم کرنی پڑے گی ” ۔

خطوط بنام جناح

28 مئ 1937 کو انہوں نے مسٹر جناح کو خط لکھا جو بعد میں بہت مشہور ہوا :
” لیگ کو بالآخر یہ فیصلہ کرنا ہی پڑے گا کہ

آیا وہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کے اُنچے طبقے کی نمائندہ جماعت بن کر رہے گی یا ایسے عام مسلمانوں کی جماعت بنے گی جنہوں نے ابھی تک معقول وجہ کی بنا پر اس میں کوئ دلچسپی نہیں لی ۔

شخصی طور پر میں یقین کرتا ہوں کہ وہ سیاسی تنظیم جو عام مسلمانوں کی بہتری کےلیے کوشاں نہ ہوں ، عوام کو اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی ” ۔

اقبال اور احمدیت

علامہ اقبال نے ایک مضمون لکھا جس میں بتایا کہ احمدیت فرقے کی بنیاد ہی غلطی پر ہے ۔ اس کے علاوہ بعض اور علمی نکات بیان کیے اور آخر میں حکومت کو یہ مشورہ دیا کہ اس فرقے کو ایک علیحدہ جماعت تسلیم کر لے ۔

جنگ اور قرآن

کسی معترض نے کہا کہ اقبال اس دور ترقی میں جنگ کا حامی ہے ۔ اس پر علامہ اقبال نے فرمایا : ” میں جنگ کا حامی نہیں ہوں اور نہ کوئ مسلمان شریعت کے حدود معینہ کے ہوتے ہوۓ اس کا حامی ہو سکتا ہے ۔

قرآن کی تعلیم کی رو سے جہاد یا جنگ کی دو صورتیں ہیں ۔مدافعانہ و مصلحانہ ۔پہلی صورت میں یعنی اس صورت میں جبکہ مسلمانوں پر ظلم کیا جاۓ اور ان کو گھروں سے نکالا جاۓ، مسلمان کو تلوار اٹھانے کی اجازت ہے نہ حکم ۔

دوسری صورت میں جس میں جہاد کا حکم ہی ( 49:9 ) میں بیان ہوئ ہے ۔ ان آیات کو غور سے پڑھیے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ چیز جس کو سیموئل ہو رجمعیتہ اقوام کے اجلاس میں collective security کہلاتا ہے ، قرآن نے اس کا اصول کس سادگی اور فصاحت سے بیان کیا ہے ۔۔۔

جمعیت اقوام کی تاریخ یہی ثابت کرتی ہے کہ جب تک اقوام کی خودی قانون الٰہی کی پابند نہ ہو ، امن عالم کی کوئ سبیل نہیں نکل سکتی ۔
جنگ کے مندرجہ بالا دو صورتوں کے سوا میں اور کسی جنگ کو نہیں جانتا ۔ جوع الارض کی تسکین کے لیے جنگ کرنا حرام ہے ۔ علٰی ہذا ۔ دین کی اشاعت کے لیے تلوار بھی اُٹھانا حرام ہے ۔

انتقال ۔

ایک دن علامہ کے ساتھ مرض قلب کے متعلق زکر چلا تو یہ شعر پڑھا :
تہنیت گوئید مستاں دا کہ سنگ محتسب
بر دل ما آمد و ایں آفت از مینا گزشت

اس شعر کے پڈھنے کے بعد سخت رقت طاری ہوئ یہاں تک کہ ہم نشین مضطرب ہو گۓ ۔
مرض الموت کی کیفیت یہ تھی کہ آخر میں استسقا ہوا ۔ ڈاکٹر جمیعت سنگھ نے دیکھا تو مایوسی ظاہر کی ۔ علامہ کے بڑے بھائ شیخ عطا محمد نے حرف تسلی کہنے کی کوشش کی تو علامہ نے فرمایا : ” میں مسلمان ہوں ، موت سے نہیں ڈرتا “

نشانِ مردِ مومن با تو گویم
چو مرگ آید تبسم برلب اوست

علامہ اقبال 21 اپریل 1938 کو صبح سوا پانچ بجے قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کر لیں اور اپنے پیدا کرنے والے کے دربار سرخرو حاضر ہو گۓ۔
حضرت سر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللّہ علیہ نے عیسوی حساب سے ” پینسٹھ سال ایک مہینہ اُنتیس دن ” اور ہجری حساب سے سرسٹھ سال ایک مہینہ چھبیس دن عمر پائ ۔

Allama Muhammad iqbal biography in english

Allama Muhammad iqbal biography in english language for those who could not understand urdu language.

Birth

 

Allama Iqbal was born on November 9, 1976. The father suggested the name, Muhammad Iqbal.

you can learn more About Allama Iqbal family background history

Allama’s father’s name was Sheikh Noor Mohammad, while his mother’s name was Imam Bibi.

Allama had one brother and four sons. The brother’s name was Sheikh Ata Muhammad, and the sisters’ names were Bibi, Fatima, Karim, and Zaria.

you can learn more about Iqbal’s marriage life

Title of “Sir”

On the very first day of 1923, Allama Iqbal was given the title of Sir. The then government addressed Allama Iqbal on behalf of Governor Sir Edward McGinn.

And this address was recommended by Nawab Sir Zulfiqar Ali Khan.
Allama did not want any speech,

but at that time, the political leaders had created hatred against the speeches among the people of the country,

and people generally started considering the speech as the stuff of heartlessness.
When the governor expressed his desire to address Allama, Allama flatly refused.
The Governor understood that Allama Iqbal was also of the same opinion of the people in this matter,

but when Allama said that if you insist, then well, even if I am, the signs of surprise became visible Governor’s face.

 

Iqbal and Gandhi

Although Allama Iqbal disagreed with the idea of a united nation because he was a staunch opponent of colonialism, despite the differences,

the Mujahideen of Hurriyat loved him for his bravery, determination, and selflessness, and he supported his opponents.

I could not. In those days, Allama recited a few poems to Gandhiji with high determination and great sincerity and appreciation for his incompetence.

One day he used to call Gandhi Malvi.
The command of the weak is the rope in the world.
This delicate empire is not an adjective.

Take it from Gulistan and fly it to Saba.
The donkey is here with the beautiful body and the armor there.
What is the request in the way of life?
So you will get around in employment.

The grain that came from Asia tested its strength.
He did not speak with great dignity.
He is a strong man, righteous and pure.

“Khara rivals try to weaken the weak.
There are hundreds of alleys in the middle of the teeth. ”
(Landlord 13 November 1921)

 

Sultan Tipu

Hazrat Allama was in love with Tipu Sultan and had written poems in his praise many times.

Now when Deccan’s journey took place, he reached the shrines of Haider Ali and Tipu Sultan.

At the shrine of Sultan Shaheed, a Missouri poet recited a poem that impressed Allama and lasted from beginning to end.

Allama says, “Everywhere I went in Mysore, there was only one name on the tongues of the people, namely, the name of Sultan Shaheed.

There was only one colorful story that everyone would tell, and everyone would listen to literature with their heads bowed, and that was the story of Sultan Shaheed’s life of struggle.

This was also the theme of the shopkeepers in the bazaars. In the two or three meetings where I agreed to go, these things kept happening.

I turned the conversation to other things many times, but every time Sultan Tipu was mentioned again.

 

League meeting chaired by Allahabad

Allama Iqbal was elected President of the Annual Meeting of the All India Muslim League, which was held on December 5 at Allahabad.

The sermon delivered by Hazrat Allama Iqbal on this occasion was a unique document in terms of breadth and breadth of ideas,

the authenticity of tone, the eloquence of language, and the abundance of political demands. Iqbal laid the foundation of the proposal Pakistan and said;

“I am sure that this gathering will strongly support all the demands contained in this resolution (Resolution of the All Muslim Parties Conference).

Personally, I want to go one step further than these demands, my wish.” That Punjab, NWFP, Sindh, and Balochistan should be merged into a single state,

whether it is a government within the British Empire or outside, I see that if not the Muslims of northwestern India.

In the end, an organized Islamic state will have to be established. ”

Letters to Jinnah

On May 28, 1937, he wrote a letter to Mr. Jinnah, which later became very popular.

“Ultimately, the League will have to decide whether it will become a party representing only the upper class of Indian Muslims or a party of ordinary Muslims who have not yet taken an interest in it for a good reason.

Personally, I believe that a political organization that does not strive for the betterment of ordinary Muslims cannot attract the masses. ”

Iqbal and Ahmadiyyat

Allama Iqbal wrote an article in which he said that the Ahmadiyya sect is based on error.

He also mentioned some other scientific points and finally advised the government to recognize it as a separate party.

War and the Qur’an

One protester said that Iqbal was in favor of the war in this era of development.

On this, Allama Iqbal said, “I am not a supporter of the war, and no Muslim can be a supporter of it within certain limits of Shariah. According to the teachings of the Qur’an, there are two forms of jihad or war.

Defensive and expedient.” In the first case, in the case where Muslims are persecuted and evicted from their homes, a Muslim is not allowed to carry a sword, nor in the second case,

in which the command of jihad itself is stated (49-9). If you read these verses carefully, you will know that Samuel is called collective security in the nations’ meeting.

With what simplicity and eloquence have the Qur’an explained its principle …

This is the history of the nations. Proves that unless the nations themselves are bound by divine law, there can be no world peace.
Except for the above two cases of war,

I do not know of any other war. It is haraam to fight for the satisfaction of the earth.

على ہذا۔ It is also haraam to carry a sword to spread the religion.

Last time

One day Allama mentioned Zakir about heart disease and read this poem.
Congratulations to the ombudsman
The calamity that befell me has passed.

After reading this poem, there was a great tenderness until we became restless.

Alamut’s condition was such that at the end of the day, there was Istisqa. Dr. Jamiat Singh was disappointed to see.

Allama’s elder brother Sheikh Ata Muhammad tried to console him, but Allama said, “I am a Muslim, I am not afraid of death.”

I will tell you the sign of a man of faith.
When you die, you smile.

Allama Iqbal, on April 21, 1938, at five o’clock in the morning, turned to the Qibla, closed his eyes, and

I went to the court of his Creator.
Hazrat Sir Allama Muhammad Iqbal (may Allah have mercy on him)

lived to be 65 years and one month and 29 days according to the Christian calendar and sixty-six years

and one month and 26 days, according to the Hijri calendar.

Allama Iqbal books:

Allama Muhammad Iqbal biography famous books that are listed bellow

Israr-e-khudi

ramooz-e-bekhudi

peyaam e Mashriq

bang-e-Dara

zaboor – e -ajam

tashkil jaded ilaheyat Islamia

Javed Nama

baale e jibraeil

Zarb e claim

armgan e Hijaz

you can Read Allama Iqbal poems and ghazals on our blog page.

If you have any queries, please contact us.