Allama iqbal nazm begging from baal e jibraeil

Allama Iqbal Nazm begging

علامہ اقبال کی لکھی ہوئی نظم

 گدائی

یہ نظم علامہ نے انوٓری کے اس قطعہ سے متاثر ہو کر لکھی جس کا پہلا شعر یہ ہے

“آں شنیدستی کہ روزے زیر کے با ابلہے
گفت کایں والہیِ شہر ما گداست ”
ترجمہایک روز میخانے میں کسی دانا رند نے ایک بیوقوف سے یہ بات کہی کہ ہمارے شہر کا حاکم شرم و حیا سے عاری ایک بھکاری ہے ۔

Read Allama iqbal Nazm cinema

Translation !

first phrase :

Allama iqbal nazm begging

1: ایک دن کسی دانا رند نے شراب خانے میں کہا کہ ہمارے شہر کا حاکم بے شرم بھکاری ہے ۔

 Second phrase:

 

2: یہ بات لائق توجہ ہے کہ جو اس نے تاج پہن رکھا ہے ، یہ کِن کِن لوگوں کے سروں سے ٹوپیاں چھین کر بنایا گیا ہے اور کس کس کا بدن ننگا کر کے اس کے لیے سنہری قبا تیار ہوئی ہے ؟ ( رعایا غریب اور مفلس ہے ان کے ننگے پن نے اس کو سنہری قبا عطاء کی ہے ) ۔

third phrase :

3 : رہقان نے خون پسینہ ایک کر کے جو فصل پیدا کی اسی کی کا ایک حصہ خراج کے طور پر لے کر حاکم نے اپنے لیے عیش و عشرت کا سامان مہیا کر لیا اور میرے تیرے کھیت کی مٹی اس کے لیے کیمیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسے کچھ کیے بغیر ہی اچھی خاصی رقم ہاتھ لگ جاتی ہے جس سے وہ خوب عیش کرتا ہے ۔

Fourth phrase :

4 : اس کے تو شہ خانے ( باورچی خانے ) میں جو جو چیزیں نظر آتی ہیں وہ سب مانگے تانگے کی ہیں اور یہ چیزیں اسے کون دیتا ہے ؟ گویا حاکم کا توشہ خانہ محنت کش غریبوں کی دی ہوئی چیزوں سے آراستہ ہے ۔ ( عوام بھوکے ننگے ہیں روٹی تک کے محتاج ہیں فاقوں میں زندگی کے دن کاٹتے ہیں ) ۔

Read every thing from baal e jibraeil book of Allama iqbal

fifth phrase :

5 : کوئی میری یہ بات مانے یا نہ مانے لیکن میں کھلے بندوں میں کہتا ہوں کہ امیر اور بادشاہ سب کے سب گدا ہیں اور ان کی زندگیاں پر گزر رہی ہیں

allamaiqbal

I am Sabraiz, WordPress and SEO Expert. I love Allama Iqbal's poems, ghazals, and Poetry. You can message me through the contact us page for any query. I would love to answer it!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *