Allama Iqbal poem in urdu from baal e jibreel

https://allamaiqball.com/lenin-khuda-ke-hazoor-main-allama-iqbal-poem-in-urdu/

https://allamaiqball.com/farman-e-khuda/

https://allamaiqball.com/allama-iqbal-poem/

https://allamaiqball.com/iblees-ki-majlis-shoora/

https://allamaiqball.com/iqbal-poem-on-himalaya/

Allama iqbal poem in urdu

lenin khuda ke hazoor main poem by Allama Iqbal poem in urdu from his famous book Baal e jibreil

لینن
(خدا کے حضور میں )
اے انفُس و آفاق میں پیدا ترے آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری زات
میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متّغیر تھے خِرد کے نظریات
محرم نہیں فطرت کے سُرودِ ازَلی سے
بیناۓ کو اکب ہو کہ داناۓ نباتات

آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
مَیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خَرَافَات
ہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہوۓ بندے
تُو خالقِ اعصار و نگارندۂ آنات !

اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مَقالَات
جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات

گُفتار کے اسلوب پہ قابُو نہیں رہتا
جب رُوح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
وہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود
وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیر سماوات ؟

مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فِلّزات
یورپ میں بہت روشنئ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات

Allama iqbal poem in urdu

رعنائ تعمیر میں ، رونق میں ، صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات
ظاہر میں تجارت ہے ، حقیقت میں جُوا ہے
سُود ایک کا لاکھوں کے لۓ مرگِ مَفَاجَات

Read Allama Iqbal famous Poem Hamdardi in urdu

یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تَدَبُّر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہُو ، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
بے کاری و عریانی و مَے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فَرنگی مَدنِیَت کے فتوحات

وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کِیا مات
مے خانے کی بنیاد میں آیا ہے تَزلزُل !
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خرابات

چہروں پہ جو سُرخی نظر آتی ہے سرِشام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات
تو قادر و عادل ہے ، مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ ؟
دُنیا ہے تری مُنتَظِر روزِ مکافات !

Allama Iqbal Poem in urdu for kids

تعارف
لینن خدا کے حضور میں
ولادت 1870 ۶ بمقام سمبرسک (قازان ) اصل نام ولادیمر الچ اولیا نوف ( vladimir illitch ulianov ) لینن روس کا ایک شہرۂ آفاق انقلاب پسند ڈکٹیٹر ( آمر مختار مطلق ) تھا ۔ جس نے بالشوزم کی بنیاد ڈالی اور اشتراکیت کی نشرو اشاعت کو زندگی کا مقصد قرار دیا ۔

گویا یہ کیمونسٹوں کا خدا تھا۔

یہ طالب علمی ہی کے زمانے میں انقلابی بن گیا۔اس کے بڑے بھائ کو انقلابی سرگرمیوں ہی کی وجہ سے موت کی سزا دی گئ ۔ لینن بدستور اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔

بالشویک جماعت نے 1917 ۶ میں زارروس کا تختہ الٹ کر اپنی حکومت قائم کی۔ روس کے تخت آمریت پر متمکن ہوگیا ۔ لینن اس حکومت کا پہلا سربراہ بنا۔ سات سال تک ساری دنیا سے اپنی ڈکٹیٹری کا لوہا منوا کر 1924 ۶ میں اس نے وفات پائ ۔

وہ کمیونزم کا سب سے بڑا داعی مانا جاتا ہے ، جس نے کارل مارکس کے فلسفے کو عملی جامہ پہنایا۔ روس میں بالشویک حکومت کی بنیادیں لینن ہی نے استوار کی تھیں ۔

 

learn more About Allama Iqbal poems

 

allamaiqbal

I am Sabraiz, WordPress and SEO Expert. I love Allama Iqbal's poems, ghazals, and Poetry. You can message me through the contact us page for any query. I would love to answer it!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *