allama iqbal poetry about education in urdu for students

Allama Iqbal poetry about education in Urdu
for students

Allama Iqbal poetry about education in Urdu
for students

طالبِ علم
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں

Read Allama Iqbal Poem Spain

تعلیم و تربیت

مقصود
(سِپنوزا)
نظر حیات پہ رکھتا ہے مردِ دانش مند
حیات کیا ہے ، حضور و سُرور و نُور و وجود
( فلاطون)
نگاہ موت پہ رکھتا ہے مردِ دانش مند
حیات ہے شبِ تاریک میں شرر کی نمود

حیات و موت نہیں التفات کے لائق
فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود

Allama Iqbal poetry for students

تعلیم اور اس کے نتائج
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقّی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئ جاوہ نُما
لے کے آئ مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ
“تخمِ دیگر بکف آریم و بکاریم ز نو
کانچہ کشتیم ز خجلت نتواں کرد درو “

Read Allama Iqbal Essay in easy english

Allama Iqbal ki Ghazal

مسلمان اور تعلیم جدید
مُرشد کی یہ تعلیم تھی اے مسلمِ شوریدہ سر
لازم ہے رہرو کےلیے دُنیا میں سامانِ سفر
بدلی زمانے کی ہوا ، ایسا تغّیر آگیا
تھے جو گراں قیمت کبھی ، اب ہیں متاعِ کس مخر
وہ شعلۂ راشن ترا ، ظُلمت گریزاں جس سے تھی
گھٹ کر ہوا مثلِ شرر تارے سے بھی کم نُور تر
شیدائِ غائب نہ رہ، دیوانۂ موجود ہو

غالب ہے اب اقوام پر معبودِ حاضر کا اثر
ممکن نہیں اس باغ میں کوشِش ہو بارآور تری
فرسودہ ہے پھندہ ترا ، زیرک ہے مُرغِ تیز پر
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ مِلّت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثلِ نیشتر
رہبر کے ایما سے ہُوا تعلیم کا سودا مجھے
واجب ہے صحرا گرو پر تعمیلِ فرمانِ خضر
لیکن نگاہِ نُکتہ بیں دیکھے زبُوں بختی مری
” رفتم کہ خار از پاکشم ، محمل نہاں شراز نظر
یک لحظ غافل گشتم و صد سالہ راہم دُور شد “

Allama Iqbal poetry in Urdu for youth

read Allama iqbal poetry about love

علم و عشق
علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین وظن
بندۂ تخمین وظن ! کِرم کتابی نہ بن
عشق سراپا حضور ، علم سراپا حجاب !
عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائنات
علم مقامِ صفات ، عشق تماشاۓ ذات
عشق سکون و ثبات ، عشق حیات و ممات
علم ہے پیدا سوال ، عشق ہے پنہاں جوب !
عشق کے ہیں معجرات سلطنت و فقر و دیں
عشق کے ادنیٰ غلام صاحبِ تاج و نگیں

Read Allama Iqbal poem Palm Tree

عشق مکان و مکیں ، عشق زمان و زمیں
عشق سراپا یقیں ، اور یقیں فتحِ باب !
شرعِ محبت میں ہے عشرتِ منزل حرام
شورش طوفاں حلال ، لزتِ ساحل حرام
شق پہ بجلی حلال ، عشق پہ حاصل حرام
علم ہے اِبن الکتاب ، عشق ہے اُم الکتاب !

allama iqbal famous poetry in urdu

علم و دین
وہ علم اپنے بُتوں کا ہے آپ ابراۂیم
کِیا ہے جس کو خدا نے دل و نظر کا ندیم
زمانہ ایک ، حیات ایک ، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری قصّۂ جدید و قدیم
چمن میں تربَبیتِ غُنچہ ہو نہیں سکتی
نہیں ہے قطرۂ شبنم اگر شریکِ نسیم
وہ علم ، کم بصَری جس میں ہمکنار نہیں
تجّلیاتِ کلیم و مشاہداتِ حکیم !

Read more About Allama Iqbal book bang e dara

allamaiqbal

I am Sabraiz, WordPress and SEO Expert. I love Allama Iqbal's poems, ghazals, and Poetry. You can message me through the contact us page for any query. I would love to answer it!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *