allama iqbal poetry about Western Culture in urdu with translation

Allama Iqbal poetry about western culture in Urdu

Allama Iqbal poetry about western culture.

 

یورپ
تاک میں بیٹھے ہیں مُدّت سے یہودی سُودخوار
جن کی رُباہی کے آگے ہیچ ہے زورِ پلنگ
خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوۓ پھل کی طرح
دیکھیے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ!
(ماخوذ از نطشہ )

 

Allama Iqbal poetry in Urdu with translation

 

Read Allama Iqbal Famous Poem Farman e khuda (farishto sy ) in urdu and english with translation

تعارف
یہ نظم جیسا کہ خود علامہ محمد اقبال رحمتہ الله عليه نے لکھا ہے. نیٹشے سے ماخوز ہے جس کا خیال یہ تھا کہ سودخوار یہودی یورپ پر مکاری سے کام لے کر چھاۓ جارہے ہیں ۔ نیٹشے کے اسی خیال کو ہیٹلر نے جامۂ عمل پہنانے کے جوش میں آریائ نسل کے تعصب کی آگ بھڑکائ اور یہودیوں کو نسلاً سامی قرار دے کر جرمنی سے باہر نکال دیا جن میں بڑے بڑے اہل علم ، تاجر ، صناع اور کارخانہ دار بھی تھے

read jugnu poem for children in urdu

Explanation

 

تشریح ۔
۱- یہودی سود خوار مدت سے تاک میں بیٹھے ہیں ۔ اُن کی مکاری اور لومڑی فریب کاری کے سامنے چیتے جیسے شہ زور کا بھی زور نہیں چلتا۔ ( لومڑی

کا چیتے سے مقابلہ ) وہ بھی بے بس ہے۔ یعنی کسی کے پاس کیسی ہی قوت کیوں نہ ہو مگر وہ یہودیوں کی مکاری کے سامنے ضرور شکست کھا جاۓ گا۔

۲- آج کل یورپ کی حیثیت ایک ایسے پھل کی ہے ، جو خوب پک کر خودبخود گرنے والا ہے ۔دیکھنا یہ پھل آخر کس کی جھولی میں گرتا ہے ؟

 

read jhapantna palatna poem shaheen of Allama iqbal in urdu

learn more about allama iqbal book baal e jibreel from wikipedia

allamaiqbal

I am Sabraiz, WordPress and SEO Expert. I love Allama Iqbal's poems, ghazals, and Poetry. You can message me through the contact us page for any query. I would love to answer it!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *