Baal e Jibreel-Allama Iqbal famous Book in Urdu and English

Baal e jibreel -Allama Iqbal famous book in Urdu and English

Baal e jibreel book

introduction in urdu

بال جبریل 1935 ء میں اردو میں شائع ہونے والی فلسفی شاعرانہ کتاب ہے ۔

اقبال کی اردو میں شاعری کی پہلی کتاب ، بنگ-دارا (1924) ، اس کے بعد 1935 میں بال جبریل اور

ضربِ کلیم 1936 میں آئی۔ بالِ جبریل اقبال کی اردو شاعری کی چوٹی ہے۔ اس میں غزلیں ، نظمیں ، کواترین ، ایپیگرام شامل ہیں۔

 

کچھ آیات اس وقت لکھی گئیں جب اقبال نے برطانیہ ، اٹلی ، مصر ، فلسطین ، فرانس ، اسپین اور

افغانستان کا دورہ کیا ، جس میں اقبال کی ایک مشہور نظم “مسجد قرطبہ” بھی شامل تھی۔

 

اس کام میں خدا کو مخاطب 15 غزلوں اور انا ، ایمان ، محبت ، علم ، دانش ، اور آزادی سے

متعلق 61 غزلیں اور 22 کوٹرین شامل ہیں۔ شاعر مسلمانوں کی ماضی کی عظمت کو یاد کرتا ہے

جب وہ معاصر سیاسی مسائل سے نمٹتا ہے۔

Explanation of baal e jibreel

عرضِ شارح
“بالِ جبریل ” ( جبریل کے پر ) علامہ اقبال رحمتہ اللّٰہ علیہ کے اردو کلام کا دوسرا مجموعہ ہے ۔ اس کا پہلا ایڈیشن دس ہزار کی تعداد میں شائع ہوا اور اب تک لا تعداد ایڈیشن مختلف اداروں کی جانب سے شائع ہو چکے ہیں ۔
پہلے اس کا نام ” نشانِ منزل ” تجویز ہوا تھا لیکن جب علامہ محمد اقبال نے ” شمع و شاعر ” میں یہ شعر لکھا ۔۔

baal e jibreel poetry

تو اسی مناسبت سے مجموعۂ کلام کا نام ” بالِ جبریل ” رکھا گیا گویا جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے ، یہ اسلام کی الہامی تعلیمات سے ماخوز ہے ۔ ” بالِ جبریل ” کی تعلیم کا خلاصہ اس کے سرورق والے شعر سے واضح ہے :

Allama Iqbal poetry

وہ زندگی کے نۓ آفتاب کی نمود کا پیغام دیتے ہیں تاکہ اس دنیا کے شام و سحر کی بے کیفی کا خاتمہ ہو جاۓ اور ان میں تازگی و شادابی کی نئ شان پیدا ہو جاۓ ۔

Allama Iqbal poetry

” بالِ جبریل ” پر غالباً سب سے پہلا تبصرہ مولانا سید سلمان ندوی نے کیا

جو ” معارف ” ( اعظم گڑھ جون 1935ء ) میں شائع ہوا ۔ مولانا موصوف نے علامہ محمد اقبال کو خراجِ تحسین کرتے ہوۓ لکھا :
” بال جبریل کی نسبت سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں شاعر نے ” بانگ درا” سے بڑھ کر اپنی شاعرانہ صنعت ، سلاست ، روانی ، بے تکلفی اور زبان کی صحت میں حیرت انگیز کامیابی کا ثبوت دیا ہے

اور عجب نہیں کہ ” بال جبریل ” کو دیکھ کر لکھنؤ اور دہلی کے صنعت گر سخنور بھی پنجاب کے سخن دان کا لوہا لیں ۔

زبان میں غزل کی سی شیرینی تو نہیں مگر قصائد کی سی جزالت اور متانت پوری طرح موجود ہے ۔ “بال جبریل ” پر اُردو بجا فخر کرتی ہے ” ۔
اس کتاب میں شاعر فلسفۂ خودی کے نشہ میں سرشار و بے خود نظر آتے ہیں ۔ نظموں میں شاعرانہ جوش و خروش کے لحاظ سے ” ساقی نامہ” سیاسی رنگ میں ہونے کے با وجود بے مثل ہے ۔

اس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پُرجوش الفاظ اور مست خیالات کا سمندر امنڑتا چلا آرہا ہے اور یہ شعر تو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔

Allama Iqbal poetry

اپنے مخصوص فلسفۂ بے خودی کو البیلے رنگ میں پیش کیا ہے

Allama Iqbal poetry from baal e jibreel

حصہ غزلیات جوش بیان ، ندرت ، تشبیہات ، مضمون آفرینی کے اعتبار سے کسی طرح ” بانگ درا ” سے پست اور فروتر نہیں کہا جاسکتا ۔ اقبال کی حیثیت اب بین الاقوامی شاعر کی ہو چکی ہے ،

ملک اور وطن کی جغرافیائ قیود سے ان کی نگاہ بلند ہو چکی ہے ۔ وہ سارے عالم انسانیت کے سامنے ایک مستقل پیام ، شاعرانہ حسن و لطافت کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔

Baal e jibreel poems

” بال جبریل ” کی نظموں میں ” ساقی نامہ ” کا زکر پہلے آچکا ہے ۔ دوسری مشہور نظمیں حسب زیل ہیں ۔
” مسجدِ قرطبہ ، لینن خدا کے حضور میں ، فرمانِ خدا ، زوق و شوق ، جبریل و ابلیس ، فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں ۔”
فرمانِ خدا کے یہ اشعار تو بے خدا اشترا کیوں کی بھی زبان پر بے ساختہ آجاتے ہیں :

Allama Iqbal poetry

لینن والی نظم میں مغربی تہزیب و تمدن کے مصائب و نقائص لینن کی زبان سے

نہایت خوبی کے ساتھ ادا کراۓ ہیں ۔ اس موضوع پر اردو میں ایسی کوئ اور نظم نہیں مل سکتی ۔
راقم نے اس کتاب کی تشریح ، خاصی لگن اور شوق و جزبہ سے کی ہے ۔
تشریح و مطالب کا ایسا انداز اختیار کیا گیا کہ کتاب زیادہ ضخیم نہ ہونے پاۓ اور

اشعار کا مفہوم بخوبی زہن نشین ہو جاۓ ۔
کوشش یہی رہی ہے کہ اقبال کے مفہوم میں اپنی طرف سے کوئ آمیزش نہ ہونے پاۓ ۔
یہ بھی کوشش کی گئ ہے کہ زبان سادہ و عام فہم ہو کسی بھی قسم کی فلسفیانہ بحثوں کو نہیں چھیڑا گیا ۔
منجانب
پروفیسر حمید اللّٰہ شاہ ہاشمی

 

Baal e jibraeil in English

Bal Jibril is a philosophical, poetic book published in Urdu in 1935.

Iqbal’s first book of poetry in Urdu, Bang-Dara (1924), followed by Bal Jibril in 1935 and

The beating came in 1936. Bal Jibril is the pinnacle of Iqbal’s Urdu poetry. It includes lyrics, poems, quatrains, epigrams.

 

Some verses were written when Iqbal visited Britain, Italy, Egypt, Palestine, France, Spain and

I visited Afghanistan, including one of Iqbal’s famous poems, “The Mosque of Cordoba.”

 

In this work, God addresses 15 ghazals and ego, faith, love, knowledge, wisdom, and freedom

Contains 61 lyrics and 22 quotes. The poet remembers the greatness of the Muslims’ past

When he deals with contemporary political issues.

Explanation of Baal e jibreel in English

Explanation
“Baal Jibril” (on Jibril) is the second collection of Urdu words of Allama Iqbal (may Allah have mercy on him). The first edition was published in tens of thousands, and so far, countless editions have been published by various organizations.
Earlier, its name was suggested as “Nishan-e-Manzil,” but when Allama Muhammad Iqbal wrote this poem in “Shama wa Shair,”

keh gai shair e jazeest

 

For this reason, the collection of words was named “Baal Jibril,” as if what is being presented is derived from the inspired teachings of Islam. The summary of the teachings of “Baal Jibril” is clear from its cover poem

uth k khursheed ka poetry from baal e jibreel

 

They convey the message of the emergence of new sunshine of life so that the emptiness of the evening and dawn of this world may end, and a new splendor of freshness and freshness may be created in them.

Allama Iqbal poetry

Maulana Syed Salman Nadvi was probably the first to comment on “Bal Jibril.”

Which was published in “Maarif” (Azamgarh, June 1935). Maulana wrote in tribute to Allama Muhammad Iqbal.
The first thing about Bal Jibril is that in it, the poet has proved his amazing success in his poetic industry, fluency, fluency, sincerity, and language health, more than “Bang Dara.”

And it is not surprising that after watching “Bal Jibril,” the industrialists of Lucknow and Delhi also took the iron of Punjab’s orator.

 

There is no sweetness of ghazal in the language, but there is fullness of qasida’s subtlety and sophistication. Urdu is proud of “Bal Jibril.”
In this book, the poets appear to be intoxicated with the philosophy of self. In terms of poetic fervor in poems, “Saqi Nama” is unique despite being in a political color.

Reading it, it is clear that the sea of passionate words and intoxicating thoughts is flowing, and these poems have become a proverb.

 

purani syasat khuwar hai

He has presented his specific philosophy of selflessness in a colorful way

 

poem khudi from baal e jibreel in english

Part of the lyric can not be inferior to “Bang Dara” in terms of eloquence, rarity, similes, and essay writing. Iqbal is now an international poet.

The geographical constraints of the country and the homeland have raised their eyebrows. He presents a constant message to the whole world of humanity, with poetic beauty and elegance.

 

Baal e jibreel poems

In the poems of Bal Jibril, the mention of “Saqi Namah” has come first. The other famous poems are as follows.
“The Mosque of Cordoba,

Lenin In the Presence of God,

the Command of God,

the Pleasures, the Gabriel and the Devil,

the Angels send Adam out of Heaven.”
Why do these verses of the commandment of God appear on the tongues of atheists?

sultani jamhood poem of iqbal

 

 

In Lenin’s poem, the sufferings, and defects of Western civilization in Lenin’s language

Very well paid. No other such poem can be found in Urdu on this subject.
Rakim has interpreted this book with great dedication and passion.
The style of interpretation was such that the book could not be too thick

The meaning of the poems should be well kept in mind.
Efforts have been made to ensure that there is no ambiguity in Iqbal’s concept.
Efforts have also been made to keep the language simple and easy to understand. No philosophical arguments have been raised.
courtesy of
Prof. Hameedullah Shah Hashmi

Read More About Allama Iqbal

 

if you want read Allama iqbal book baal e jibreel from wikipedia