Farman e Khuda (farishton sy) | Allama Iqbal poem in Urdu and English

Farman e Khuda Farishton sy

farman e khuda farishton sy

فرمانِ خدا
(فرشتوں سے )
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو !
کاخِ اُمَر ا کے در و دیوار ہلا دو
گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقیں سے
کنجشکِ فرد مایہ کو شاہیں سے لڑا دو
سلطانئ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کُہن تم کو نظر آۓ مٹا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میّسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلا دو
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیرانِ کَلیِسَا کو کَلیِسَا سے اُٹھا دو
حق را بسجود دے ، صنماں را بطوافے
بہتر ہے چراغِ حرم و دیر بجھا دو
میں نا خوش و بیزار ہوں مَر مَر کی سلوں سے
میرے لۓ مٹی کا حرم اور بنا دو
تہزیبِ نوی کارگہ شیشہ گراں ہے
آدابِ جنوں شاعرِ مشرق کو سکھا دو !

Read Allama Iqbal Poem farishton ka Geet

farman e khuda farishton sy poem by iqbal

Allama Iqbal Poem in urdu

Introduction

تعارف
یاد ہوگا کہ لینن نے بارگاہِ باری تعالٰی میں دنیا کی حالت پیش کرتے ہوۓ پوچھا تھا کہ سرمایہ پرستی کی کشتی کب ڈوبے گی ؟ فرشتوں نے بھی عرض کیا کہ دنیا کی حالت بڑی خراب ہے ۔ اس پر اللّٰہ کی بارگاہ سے فرشتوں کو یہ حکم جاری ہوا۔ جس میں سرمایہ داروں کے ظلم کی بیخ اور مزدوروں کی حق رسی کی گئ ہے ۔

 

Translation

Read Allama Iqbal poem Khudi ka sir nehan la ilaha illallah

تشریح ۔
اے فرشتو ! اٹھو اور میری دنیا کے غریبوں کو غفلت کی نیند سے جگا دو اور امیر لوگوں نے جو اونچے اونچے محل بنا کر رکھے ہیں ان کے در و دیوار کو ہلا کر رکھ دو۔ ان میں زلزلہ پیدا کر دو ۔
ایمان کی لگن سے غلاموں کا لہو گرما دو۔کہ ان کا خون جوش میں آجاۓ۔

ناچیز چڑیا کو شاہین سے لڑا دو ۔ مفلس ، غریب اور نادار امیروں ، سرمایہ پرستوں اور دولت مندوں سے ٹکرائیں ( کنجشک غریبوں اور محکوموں کا جبکہ شاہیں امیروں کا استعارہ ہے ) ۔

زمانے کا دور بدل گیا ہے ، شینشاہی اور سرمایہ پرستی کا دور ختم ہو گیا ہے ۔ اب جمہوری حکومت کا زمانہ آرہا ہے ۔ تمام معاملات کی باگ ڈور عوام کے ہاتھ میں ہو گی ۔ لٰہزا پرانے دور کے مطلق العنانی کا کوئ جو جو نقش تمہیں نظر آتے ہیں ، ان سب کو مٹا کر رکھ دو.

Allama Iqbal famous poetry

جس کھیت سے کسان کو روزی نہیں ملتی جس سے فائدہ نہیں ہوتا تو اس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلا ڈالو ۔ گویا فرسودہ زمین داری نظام مٹا دیا جاۓ ۔

farman e khuda

مزہبی پیشواؤں خصوصاً پادریوں نے خدا اور اس کے بندوں کے درمیان پردے تان رکھے ہیں ۔ وہ اپنے واسطے کے بغیر کسے کو خدا تک پہنچنے نہیں دیتے ۔

ان مزہبی پیشواؤں کو کلیساؤں ( گرجے ) سے اٹھا دو بلکہ ان کا نام و نشان تک مٹا دو تاکہ بیچ کے پردے بھی اٹھ جائیں خدا اور بندوں کے درمیاں براہِ راست تعلق پیدا ہو جاۓ.

Iqbal poem in urdu

کعبے والوں کے نزدیک مزہب بس یہی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اللّٰہ کو سجدا کر دیا ۔
بت خانے والوں کے نزدیک مزہب کا یہ ہے کہ بتوں کے اردگرد چکر لگا لیے یہ لوگ سجدہ کرنے اور بتوں کے گرد پھرنے کے منافقانہ طریق سے عوام کو دھوکہ دے کر نفع اٹھانے کے اڈّے بنا رکھے ہیں

یعنی انہوں نے صرف چند نمائشی باتوں کو مزہب سمجھ رکھا ہے ۔اس کی روح و حقیقت کا انہیں زرہ بھر احساس نہیں ۔ ایسا مزہب کس کام کا ؟ بہتر یہی ہے کہ کعبہ اور مندر کے چراغ بجھا دیے جائیں تاکہ لوگ مزہب کی روح و حقیقت کو تو پہچان سکیں ۔

میں سنگ مر مر سے بنی ہوئ ایسی خوش نما و عالی شان عبادت گاہوں سے ناراض اور بیزار ہو چکا ہوں ۔ مجھے تو ایک ایسا کعبہ چاہیے

جو عوام میں سچے دینی جزبات پیدا کر دے بے شک وہ کعبہ مٹی ہی کا بنا ہو ا ہو ۔ مقصود حقیقی معنویت ہے نہ کہ ظاہر داری ۔

Read Allama Iqbal poem on ishq

poem from baal e jibreel

یہ جو نئ تہزیب ہے یہ شیشہ بنانے والوں کا کارخانہ ہے یعنی ہلکی سی ضرب بھی پڑے گی تو چور چور ہو جاۓ گا ۔ اسے تباہ کر دینا ہی ضروری ہے اور تباہ کر

دینے کی کیا صورت ہے ؟ یہ کہ مشرق کے شاعر کو دیوانگی کے طور طریقے سکھا دو ۔ یعنی وہ ایسا پیغام دے جو لوگوں میں جنون کی ایک ایسی کیفیت پیدا کردے اور وہ اس کارخانے کو ریزہ ریزہ کر ڈالیں ۔

Read Allama Iqbal poem Jugnu 

 

read More detail About Allama Iqbal famous book Bal e jibreel

Farishton ka geet | Allama iqbal poem with translation in urdu and english

Farishton ka geet

farishton ka geet Allama Iqbal poem from Baal e jibreel with translation in Urdu and English

فرشتوں کا گیت
عقل ہے بے زمام ابھی ، عشق ہے بے مقام ابھی
نقش گر اَزل ترا نقش ہے نا تمام ابھی
خلقِ خدا کی گھات میں رِند و فَقیِہ میر و پیِر
تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی
تیرے امیر مال مست ، تیرے فقیر حال مست
بندہ ہے کُوچہ گرد ابھی ، خواجہ بلند بام ابھی
دانش و دین و علم و فن بندگئ ہوس تمام
عشق گرہ کشاے کا فیض نہیں ہے عام ابھی
جوہرِ زندگی ہے عشق،جوہرِ عشق ہے خودی
آہ کہ ہے یہ تیغِ تیز پردگئ نیام ابھی !

 

farishton ka geet poem in  Urdu

Iqbal poem with translation

 

Introduction :

 

تعارف
جیسا کہ گزشتہ نظم کے تبصرے میں لکھا جا چکا ہے ۔ فرشتوں کا گیت اس سلسلے کی دوسری کڑی ہے اور تیسری کڑی وہ نظم ہے جس کا عنوان ” فرمانِ خدا ” ہے ۔ یعنی پہلے لینن نے دنیا کی حالت بارگاہِ باری تعالٰی میں پیش کی ۔ لینن کی درخواست سے فرشتے بھی چونک اٹھے ۔ ان کے دل پر بڑا اثر ہوا انہیں مزدوروں سے ہمدردی پیدا ہو گئ ان سب نے مل کر رب العالمین کے حضور میں گزارش کی ۔ فرشتوں نے بھی اپنی دیکھی ہوئ کیفیت گیت کی شکل میں بیان کی ۔ اس پر اللّٰہ نے فرمان صادر فرمایا۔

Read Allama Iqbal poetry on Ishq

Explanation :

تشریح :
اے اللّٰہ ! تو نے انسان کو جو عقل عطا کی تھی وہ ابھی تک بے لگام ہے یعنی ہر شخص تدبیر اور چالاکی سے کام لے کر اپنا مطلب نکال رہا ہے ۔ ابھی عشق کا کوئ مقام اور ٹھکانا نہیں ۔

اے دنیا کی پیدائش کے وقت اس جہان کی تصویر کھینچنے والے اور اسے بنانے والے ابھی یہ تیری تصویر ادھوری ہے یعنی اپنے اصل مقصد تک نہیں پہنچ سکا۔( اس نظام میں تبدیلی اور اصلاح کا ہونا ضروری ہے ) ۔

مے خوار اور اوباش ہوں یا عالم اور دین دور ، امیر لوگ ہوں یا پیری کی گدیاں آراستہ کرنے والے ، لوگوں کی گھات میں بیٹھے ہیں تیری دنیا اسی طرح صبح و شام کا چکر چل رہا ہے اس میں کوئ فرق نہیں آیا۔

 

Allama Iqbal poem with translation

اے باری تعالٰی ! تیری دنیا کے دولت مندوں اور امیروں کو دیکھیں تو دولت کے نشے سے چور ہیں ۔وہ عیش و عشرت میں ڈوبے ہوۓ ہیں ۔دولت کے نشے نے انہیں ہر چیز سے بے پروا بنا رکھا ہے۔تیری دنیا کے مفلسوں پر نظر ڈالیں تو ان کی حالت حد درجہ بُری ہے

لیکن وہ اسی پر قناعت کیے ہوۓ ہیں ۔غلاموں اور نوکروں کی یہ حالت ہے کہ انہیں آرام کے لیے ٹھکانہ نہیں ملتا اور گلی کوچوں میں پھر پھر کر وقت گزارتے ہیں ۔ حکام وقت عالی شان کوٹھیوں میں عیش اڑا رہے ہیں ۔

farishton ka geet poem in english

عقل ہو یا دین ، علم ہو یا فن ، یہ سب ہوس کے پجاری بنے بیٹھے ہیں ۔یعنی عالموں ، دین داروں ، عقل مندوں اور فن کاروں کے پاس جو جوہر ہیں ۔

وہ سب زاتی برتری کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔ابھی مشکل کو حل کرنے والے عشق کا فیض عام نہیں ہوا۔
زندگی کی روح عشق اور عشق کی روح خودی ہے ۔

Read Allama Iqbal poetry on education for students

افسوس ہے کہ خودی کی یہ تیز تلوار ابھی میان میں چھپی ہوئ ہے یعنی نہ خودی بروۓ کار آئ ، نہ عشق اور نہ زندگی کے جوہر آشکار ہوۓ۔ آج کے انسان عشق اور خودی کے جوہر سے دور ہیں ۔

 

 

The song of the angels

The song of the angels
Wisdom is timeless now. Love is placeless right now
Naqshgar Azal Tara Naqsh is not all yet
Rind and Faqih Mir and Pir in the ambush of God’s people
The same rotation in the morning and evening where you are now
Your rich man is drunk, and your poor man is drunk
The servant is on the street now, and the eunuch is on the roof now
Wisdom, religion, knowledge, and art are all lusts
Love is not a blessing in disguise
The essence of life is love. The essence of love is the self
Ah, that’s the sharp blade of Niamh right now.

 

Introduction :

Introduction
As written in the commentary of the previous poem. The angels’ song is the second part of this series, and the third part is the poem entitled “God’s command.”

That is, Lenin first presented the state of the world in the presence of the Almighty.

Lenin’s request shocked even the angels. They had a great effect on their hearts, and they became sympathetic to the workers. All of them together prayed to the Lord of the worlds.

The angels also described their condition in the form of a song. Allah issued a decree on this.

 

Explanation In English

read Allama Iqbal book Baal e jibreel in Urdu and English

Description
O Allah, the intellect which Thou hast bestowed upon man, is still unbridled, that is, every man is working out his meaning utilizing cunning and cunning.

There is no place and no place for love yet. O you who took a picture of this world at its birth and made it, this picture of you is still incomplete. That is, it has not reached its original goal. Is ).

Be it drunkards and scoundrels or scholars and religion away,

rich people or those who adorn Pierre’s mattresses, they are lying in wait for people.

Your world is going on like this morning and evening. It made no difference.
O Almighty, look at the rich and wealthy people of your world. They are thieves with the intoxication of wealth.

Allama Iqbal poem in English

They are immersed in luxury. The intoxication of wealth has made them indifferent to everything. Look at the poor of your world.

Their condition is awful, but they are satisfied with it. The condition of slaves and servants is that they do not find a place to rest and repeatedly spend time in the streets.

Authorities are currently enjoying luxurious rooms.
Be it intellect or religion, knowledge or art, and all these have become priests of lust.

That is, the essence that the scholars, theologians, the wise, and the artists have.

They are all using it for personal superiority. The grace of love that solves the problem has not yet become common.
The spirit of life is love, and the spirit of love is self.

It is a pity that this sharp sword of the self is still hidden in its sheath. That is, the self has not come to fruition, nor has the essence of love and life been revealed.

Today’s human beings are far from the essence of love and self.

 

Read More About Allama Iqbal from Wikipedia

 

khudi ka sirr nehan la ilaha illallah-Allama iqbal poem in urdu

Khudi ka sirr nehan la ilaha illallah

khudi ka sirr nehan la ilaha illallah poem by Allama iqbal from baal e jibraeil in urdu

بال جبرائیل سے ماخوز

خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللّٰہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللّٰہ
یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللّٰہ
کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سورا
فریبِ سود و زیاں لا الہ الا اللّٰہ
یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہ و پیوند

بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللّٰہ
خرد ہوئ ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللّٰہ
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللّٰہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ ازاں لا الہ الا اللّٰہ

Read Allama Iqbal poem on ishq in urdu and english with translation

la ilaha illallah poem in engllish

from Ball-e-Gabriel

The head of the self is not La ilaha illa Allah

The head of the self is not La ilaha illa Allah
The self is the blade, the snare there is no god but Allah
This age is in search of its Abraham
Sanam Kadha is where there is no god but Allah
What is the matter with you?
The deception of interest and loss is none other than Allah
This wealth of the world, this relationship

 

Read Allama Iqbal poetry on khudi, namaz in Urdu and English with translation.

 

Explain the illusions and misconceptions of La ilaha Illa Allah
The cycle of time and place has become a microcosm
There is no time or place for La ilaha Illa Allah
The harvest of flowers does not bound this song
May the spring be that there is no god but Allah
Although idols are in the sleeves of the congregation
I have the command that there is no god but Allah

 

Read Allama Iqbal book Baal-e-jibraeil

 

Mirza ghalib poem | Allama iqbal poem on mirza ghalib

Mirza Ghalib poem

mirza ghalib poem in urdu

علامہ اقبال کی نظم بانگ درا سے

مرزا غالب

فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہُوا
ہے پرِ مُرغِ تخّیل کی رسائ تا کُجا
تھا سراپا روح تُو ، بزمِ سُخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اُس حُسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے جو مستور ہے
محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار
تیرے فردوسِ تخّیل سے ہے قدرت کی بہار

تیری کشت فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مُضمر ہے تیری شوخیِ تحریر میں
تابِ گویائ سے جُنبش ہے لبِ تصویر میں
نُطق کو سَو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محو حیرت ہے ثُریا رفعت پرواذ پر
شاہدِ مضموں تصدیق ہے تیرے انداز پر

Read Allama Iqbal Poerty on Ishq in urdu

Allama Iqbal poem on mirza ghalib in urdu

خندہ زن ہے غنچۂ دلّی گُل شیراز پر
آہ ! تُو اُجڑی ہوئ دلّی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ دیمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
لُطفِ گویائ میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
ہاۓ ! اب کیا ہو گئ ہندوستاں کی سرزمیں
آہ ! اے نظّارہ آموز نِگاہِ نکتہ بیں
گیسوۓ اُردو ابھی منت پزیر شانہ ہے

Read Allama Iqbal famous poem for children jugnu in urdu

شمع یہ سودائ دلسوزیِ پروانہ ہے
اے جہان آباد ! اے گہوارۂ علم و ہنر
ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در
زرّے زرّے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گُہر
دفن تجھ میں کوئ فخرِ روزگار ایسا بھی ہے ؟
تجھ میں پنہاں کوئ موتی آب دار ایسا بھی ہے ؟

Mirza ghalib poetry in english

Allama Iqbal’s poem from Bang Dara

Mirza Ghalib

It became clear to human thought from the wet being
How far is the imagination of the rooster?
You were the whole soul, the eloquent speaker
Zeb Mehfil also stayed away from Mehfil
The sight is pleasing to your eye
Ben’s burning life is everything hidden
The party of existence is the capitalist
Like the silence of Kohsar from the songs of the river
From your heavenly imagination is the spring of nature

Read Allama Iqbal Khudi in Urdu and English

The world of the greenery grows from your cultivation
Life lies in your eloquence
There is a movement in the lips of the image
Hundreds of words are proud of your miracles
I am amazed at Thuraya Rifat Parvaz
Witness the articles confirming your style

Allama Iqbal Poem in English

There is a smile on the heart of Gul Shiraz
Ah, you are comfortable in a deserted heart
Your companion is dreaming in Gulshan-e-Demar
Your companionship is not possible in the pleasure of speech
Don’t be imaginative until we have perfect thoughts
Hi, now what has happened in the land of Indians?
Ah, look at the point of view
Gasol Urdu is still a begging shoulder

Read Allama Iqbal poem Iblees ki Majlis e shoora

 

The candle is a merry-go-round.
O Jahanabad, O cradle of knowledge and skill
There is silence all over your door
The sun and the moon are asleep in the smallest particle
There are millions of houses hidden in your dust
Burial Do you have any job pride like that?
Is there any pearl in you?

Read More About Allama Iqbal Book Bang e Dara 

if you want to watch Allama Iqbal’s poem, ghazals, and addresses, please visit our YouTube channel.

ishq poetry in urdu | Allama Iqbal poetry on ishq

Ishq Poetry in Urdu

Ishq poetry in Urdu

دردِ عشق

اے دردِ عشق ! ہے گُہرِ آب دار تو
نا محرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تو !
پنہاں تہ نقاب تری جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفل نو کی نگاہ ہے

آئ نئ ہوا چمنِ ہست و بود میں
اے دردِ عشق ! اب نہیں لزت نمود میں
ہاں ، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو
منت پزیر نالۂ بُلبل کا تو نہ ہو !

Read Allama Iqbal poems for children in urdu

خالی شرابِ عشق سے لالے کا جام ہو
پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
پنہاں دُرونِ سینہ کہیں راز ہو ترا
اشک جگر گراز نہ غماز ہو ترا

گویا زبانِ شاعر رنگیں بیاں نہ ہو
آواذِ نے میں شکوۂ فرقت نہاں نہ ہو
یہ دور نکتہ چیں ہے ، کہیں چھپ کر بیٹھ رہ

جس دل میں تُو مکیں ہے ، وہیں چھپ کے بیٹھ رہ
غافل ہے تجھ سے حیرت علم آفریدہ دیکھ !
بویا نہیں تری نگہ نارسیدہ دیکھ
رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو

حیرت میں چھوڈ دیدۂ حکمت پسند کو
جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
یہ انجمن ہے کشتۂ نظارۂ مجاز

Read Allama Iqbal Hamdardi poem in urdu

مقصد تری نگاہ کا خلوت سراۓ راز
ہر دل مۓ خیال کی مستی سے چور ہے
کچھ اور آجکل کے کلیموں کا طُور ہے

Allama Iqbal poetry on Ishq

Allama Iqbal poetry on ishq

عشق اور موت

(ماخوز از ٹینی سن )
سہانی نمودِ جہاں کی گھڑی تھی
تبسّم فشاں زندگی کی کلی تھی
کہیں مہر کو تاجِ زر مل رہا تھا
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی
سیہ پیرہن شام کو دے رہے تھے
ستاروں کو تعلیمِ تابندگی تھی

کہیں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے
کہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھی
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا
ہنسی گل کو پہلے پہل آرہی تھی
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو

Read Allama Iqbal poetry on khudi in urdu

خودی تَشنہ کام مۓ بے خودی تھی
اُٹھی اوّل اوّل گٹھا کالی کالی
کوئ حور چوٹی کے کھولے کھڑی تھی
زمیں کو تھا دعوٰی کہ میں آسماں ہوں
مکاں کہہ رہا تھا کہ مَیں لامکاں ہوں
غَرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیارا
کہ نظّارگی ہو سراپا نظارا

ملک آزماتے تھے پرواز اپنی
جبینوں سے نورِ ازل آشکارا
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا
کہ تھی رہبری اُس کی سب کا سہارا
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کا
ملک کا ملک اور پارے کا پارا
پۓ سیر فردوس کو جا رہا تھا

ishqiya poetry in urdu

قضا سے ملا راہ میں وہ قضارا
یہ پوچھا ترا نام کیا ، کام کیا ہے
نہیں آنکھ کو دید تیری گوارا
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا

اُڑتی ہوں میں رختِ ہستی کے پرزے
بجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارا
مگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسی
وہ آتش ہے میں سامنے اس کے پارا

شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میں
وہ ہے نورِ مطلق کی آنکھوں کا تارا
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی

Read Allama iqbal Famous book bang e dara

ہنسی اس کے لب پہ ہوئ آشکارا
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر
اندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارا

بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئ وہ
قضا تھی ، شکارِ قضا ہو گئ وہ

 

iqbal poems for childrens in urdu | jugnu poem by Allama iqbal

Iqbal poems for children

Allama Iqbal poems for children in urdu

پَروانہ اور جُگنو

پروانہ
پروانے کی منزل سے بہت دُور ہے جُگنو
کیوں آتشِ بے سوز پہ مغرور ہے جگنو

جگنو
اللّہ کا سَو شُکر کہ پروانہ نہیں مَیں
دریُوزہ گِر آتشِ بیگانہ نہیں مَیں

read Allama iqbal poem  shaheen jhapatna palatna poem in urdu

Jugnu poem by Allama Iqbal

jugnu poem by Allama Iqbal

جگنو

جُگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پُھولوں کی انجمن میں
آیا ہے آسماں سے اُڑ کر کوئ ستاری
یا جان پڑ گئ ہے مہتاب کی کرن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آکے چمکا ، گمنام تھا وطن میں
تُکمہ کوئ گرا ہے مہتاب کی قبا کا
زرّہ ہے یا نمایاں سورج کا پیرہن میں

iqbal poems for childrens

حُسنِ قدیم کی یہ پوشیدہ اک جھلک تھی
لے آئ جس کو قُدرت خَلوت سے انجمن میں
چھوٹے سے چاند میں ہے ظُلمت بھی روشنی بھی
نکلا کبھی گہن سے ، آیا کبھی گہن میں
پروانہ اک پتنگا ، جُگنو بھی اک پتنگا
وہ روشنی کا طالب ، یہ روشنی سراپا
ہر چیز کو جہاں میں قدرت نے دلبری دی
پروانے کو تپش دی ، جُگنو کو روشنی دی
رنگیں نوا بنایا مُرغانِ بے زباں کو

Read Allama Iqbal poem ibleed ki majlis e shoora

iqbal poetry for kids

گُل کو زباں دے کر تعلیمِ خامشی دی
نظّارہ شفَق کی خوبی زوال میں تھی
چمکا کے اس پری کو تھوڈی سی زندگی دی
رنگیں کِیا سحَر کی بانکی دُلھن کی صورت
پہنا کے لال جوڈا شبنم کی آرسی دی
سایہ دیا شجر کو ، پرواز دی ہوا کو
پانی کو دی روانی ، موجوں کو بے کلی دی
یہ امتیاز لیکن اک بات ہے ہماری
جُگنو کادن وہی ہے جو رات ہے ہماری
حسنِ ازل سے پیدا ہر چیز میں جھلک ہے
انساں میں وہ سخن ہے ، غُنچے میں وہ چٹک ہے
یہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا

iqbal poems for childrens

Read Allama Iqbal love poetry in urdu

واں چاندنی ہے جو کچھ ، یاں درد کی کسک ہے
اندازِ گفتگو نے دھوکے دیے ہیں ورنہ
نغمہ ہے بُوۓ بُلبل ، بُو پھُول کی چہک ہے
کثرت میں ہو گیا ہے وحدت کا راز مخفی
جُگنو میں وہ چمک ہے ، وہ پھول میں مہک ہے
یہ اختلاف پھر کیوں ہنگاموں کا محل ہو
ہر شے میں جبکہ پنہاں خاموشیِ ازل ہو

Read More about Allama iqbal famous book bang e Dara

Hamdardi poem by Iqbal | Allama Iqbal poem

Hamdardi poem by Allama Iqbal

Hamdardi poem by Allama Iqbal

Allama Iqbal poem hamdardi in urdu

بانگ درا

ہمدردی

(ماخوز ازولیم کوپر)

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئ اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئ
اُڑنے چگنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

Read Allama Iqbal ghazal shaheen jhapatna palatna palat kr jhapatna

سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئ پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگر چہ میں زرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
مَیں راہ میں روشنی کروں گا
اللّہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے

Read Allama Iqbal poetry on khudi in urdu

Hamdardi poem by Allama Iqbal in English

Bang-e-Darra

sympathy

(Azulim Cooper)

Alone on a branch of a tree
There was a bubble, someone was sitting sad
He used to say that night came on his head
Spent the day flying
How do I get to Ashian?
Darkness covered everything

read Allama Iqbal poetry on Hazrat Muhammad (PBUH)

Hear the sigh of the bubble
Jagnu spoke to someone nearby
Attend to help wholeheartedly
I am a worm even though I am a little bit
What a grief that night is dark
I will light the way
Allah has given me a torch
It made me shine
People are where I am good
The work of others comes

Bang -e- Dara

the call of the marching bell (bang-e-Dara) book by Allama Iqbal, the first philosophical book, was originally published in Urdu in 1924.

this book was written in almost 20 years by Iqbal and divided into 3 parts.

This book was named after a bell that was used to awaken the people during traveling, and with the same thoughts, Allama named his book as his purpose was to awaken the Hindustan’sple of His poetry, poem, and ghazals.

jhapatna palatna shaheen ghazal | Allama Iqbal ghazals in urdu

Jhapatna palatna Shaheen ghazal

jhapatna palatna sheheen ghazal by Allama Iqbal

Allama Iqbal ghazals in urdu

شاہیں

کیا میں نے اُس خاک داں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ
نہ بادِ بہاری ، نہ گل چیں ، نہ بلبل
نہ بیماریِ نغمۂ عاشقانی

jhapatna palatna shaheen ghazal by Allama iqbal in urdu

خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
ہواۓ بیاباں سے ہوتی ہے کاری
جواں مرد کی ضربتِ غازیانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

Read Allama Iqbal khudi in urdu

Allama Iqbal ghazal Laahu

لہو
اگر لہُو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ حراس
اگر لہو ہے بدن میں تو دل ہے بے وسواس
جسے مِلا یہ متاعِ گراں بہا، اُس کو
نہ سیم و زر سے محبت ہے ، نہ غمِ افلاس

Parwaz ghazal by Iqbal

پرواز
کہا درخت نے اک روز مُرغِ صحرا سے
سِتم پہ غم کدۂ رنگ و بو کی ہے بُنیاد
خدا مجھے بھی اگر بال و پر عطا کرتا
شَگُفتہ اور بھی ہوتا یہ عالمِ ایجاد
دیا جواب اُسے خوب مُرغِ صحرا نے
غضِب ہے ، داد کو سمجھا ہُوا ہے تُو بیداد!
جہاں میں لذّتِ پرواز حق نہیں اُس کو
وجود جس کا نہیں جزبِ خاک سے آزاد

Read Allama Iqbal Educational poetry about students

Sheikh Maktib sy ghazal by Iqbal

شیخ مکتب سے
شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر
جس کی صنعت ہے رُوح انسانی
نُکتۂ دلپزیر تیرے لیے
کہہ گیا ہے حکیم قا آنی
” پیشِ خورشید بر مکش دیوار
خواہی ار صحنِ خانہ نورانی “

Read Allama Iqbal book baal e jibraeil

if you like this article please subscribe our yourube channel and watch Allama Iqbal poems , ghazals and poetry in urdu with translation

 

allama iqbal khudi in urdu | Allama Iqbal shayari on namaz

allama iqbal khudi in urdu

allama iqbal khudi in urdu

غزل بالِ جبرائیل سے

خودی

خودی کو نہ دے سِیم و زر کو عوض
نہیں شُعلہ دیتے شرر کے عوض
یہ کہتا ہے فردوسیِ دیدہ وَر
عجم جس کے سُرمے سے روشن بصر
” زبہرِ درم تُند و بد خو مباش
تُو باید کہ باشی ، درم گو مباش “

Read Allama IQbal Poetry on hazrat Muhammad (PBUH)

Allama Iqbal Shayari on namaz

Allama Iqbal shayari on namza in urdu

ضرب کلیم
(اعلان جنگ زمانہ حاضر کے خلاف )
نماز
بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگر چہ پیر ہے آدم ، جواں ہیں لات و منات

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

Allama Iqbal Khudi in english

Allama Iqbal Khudi in english

Ghazal by Bal Gabriel
self-esteems
Don’t give yourself away for money
Do not give flames in exchange for evil
It says paradise
Ajam whose bright vision
“Zabhar-e-Darm is fierce and evil
You must live, you must live. “

Read Allama Iqbal poem iblees ki majlis e shoora

Allama Iqbal shayeri on namaz in english

Allama Iqbal shayari on namaz in english

 

Multiply the claim
(Declaration of war against the present)
Prayer
Disguises of change come again at every age
Although the foot is Adam, the young are Lat and Manat

This is a prostration that you consider precious
He saves man from a thousand prostrations

Read Allama Iqbal famous book Baal e jibraeil

iqbal poetry on hazrat muhammad in urdu

Allama Iqbal poetry on Hazrat Muhammad in Urdu

Allama Iqbal poetry on Hazrat Muhammad in Urdu

بانگ درا سے غزل

حضورِ رسالت مآب صلیاللّہ علیہ وسلم میں
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُوا
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہوا
قیودِ شام و سحر میں بسر تو کی لیکن
نظامِ کُہنۂ عالم سے آشنا نہ ہوا
فرشتے بزمِ رسالت میں لے گۓ مجھ کو
حضورِ آیۂ رحمت میں لے گۓ مجھ کو

کہا حضورؐ نے ، اے عندلیبِ باغِ حجاز !
کلی کلی ہے تری گرمیِ نوا سے گُراز
ہمیشہ سرخوشِ جامِ وِلا ہے دل تیرا
فتادگی ہے تری غیرتِ سجودِ نیاز
اُڑا جو پستیِ دُنیا سے تُو سوۓ گردُوں

Read Allama Iqbal poem Himalaya from bang e dara

سکھائ تجھ کو ملائک نے رفعتِ پرواز
نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ نو آیا
ہمارے واسطے کیا تُحفہ لے کے تو آیا ؟
حضورصلی اللّہ علیہ ! دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی

ہزاروں لالہ و گُل ہیں ریاضِ ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بُو ، وہ کلی نہیں ملتی
مگر میں نزر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے ، جنّت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری اُمّت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں آ “

Ghazal from Bang Dara

In the presence of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him)

Dear, what happened to me during this tumultuous time

From where the journey of the dam departed

He lived in the confines of evening and dawn, but

He did not become acquainted with the system of the ancient world

Read Allama Iqbal Poetry masjid tu bna di shab bhar main in urdu and english

The angels took me in the message

The Holy Prophet took me to mercy

 

The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: O Andalib of the Garden of Hijaz.

It is completely free from the heat of the day.

Your heart is always happy.

Farage is the pride of prostration.

Fly away from the depths of the earth

 

The angels taught you to fly.

The garden of Nickel, from which came the new beetle

What gift did you bring for us?

There is no comfort in the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him)

The search is on. Life is not found.

 Read Allama Iqbal Book Bang e Dara

There are thousands of red flowers in Riyadh.

The scent of fidelity is not found in it.

But I have brought a glass of sight.

What is in it is not found in heaven

The dignity of the Ummah is reflected in it.

The blood of the martyrs of Tripoli is in it. “