cinema poem by Allama iqbal | علامہ اقبال کی لکھی ہوئی نظم سنیما

Cinema poem by Allama Iqbal

cinema poem by allama iqbal from baal e jibraeil book.

علامہ اقبال کی لکھی ہوئی نظم
سنیما
وہی بُت فروشی ، وہی بُت گری ہے
سنیما ہے یا صنعتِ آزری ہے
وہ صنعت نہ تھی ، شیوہٓ کافری تھا
یہ صنعت نہیں ، شیوہٓ ساحری ہے
وہ مذہب تھا اقوامِ عہدِ کُہن کا
یہ تہزیبِ حاضر کی سوداگری ہے
وہ دنیا کی مٹی ، یہ دوزخ کی مٹی

وہ بُت خانہ خاکی ، یہ خاکستری ہے !

 

Read Allama Iqbal poem begging

you can find more info related to Baal e jiraeil

Translation in urdu:

تعارف : اس نظم میں بیان کیا گیا ہے کہ سینما حقیقت میں بت پرستی ہی کی دوسری صورت ہے
تشریح
1۔ سینما کیا ہے ؟ یہ تو حضرت ابرہیم علیہ السلام کے چچا آذر کی صنعت ہے ۔ یہاں اسی طرح بت بناےٓ اور بیچے جاتے ہیں جس طرح آذر بناتا اور بیچتا تھا
( صرف شکل مختلف ہے ) ۔


2 ۔ آذر کی بت گری اور بت فروشی تو اصل میں کافری کا ایک طریقہ (انداز) اور سینما صنعت نہیں بلکہ جادوگری کا ایک طریقہ ہے


3 ۔ بت گری اور بت فروشی پرانے زمانے کی قوموں کا مذہب تھی اور یہ صنعت موجودہ ذمانے کی تہذیب کا بیوپار ( تجارت ) ہے ۔


4 ۔ پرانے زمانے کی بُت گری میں دنیا کی مٹی استعمال کی جاتی تھی۔ سینما کے لیے دوزخ کی مٹی استعمال ہوتی ہے ۔ پرانے زمانی کی بُت گری کو خاکی بت خانہ کہہ سکتے ہیں۔اس لیے کہ اس کے بت دنیا کی مٹی سے بنتے تھے سینما راکھ کا بت خانہ ہے اس لیے کہ وہ دوزخ کی مٹی سے بنایا گیا ہے۔ جہاں راکھ کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا ۔


یہاں علامہ اقبال نے سینما کی سخت مزمت کی ہے وہ اس لیے کہ اس تہزیب نے جادوگری کے طریقوں سے کام لے کر تجارت کا نیا ڈھنگ پیدا کیا ہے ۔ کروڑوں روپے کماتے ہیں اس کا اخلاق پر بُرا اثر پڑتا ہے ، لٰہزا یہ کہنا بلکل بجا ہے کہ سینما کا بت خانہ دوزخ کی مٹی سے بنایا گیا ہے

Translation in English.

Introduction:

This poem states that cinema is in fact another form of idolatry.

1 . What is the cinema? This is the industry of Hazrat Azar’s uncle, Azar.

Her idols are made and sold in the same way as Azar used to make and sell (only the form is different).

2. Azar’s idolatry and idolatry is actually a form of infidelity (style) and not a cinema industry but a form of witchcraft.

3. Idolatry and idolatry were the religion of the nations of old and this industry is the trade of modern civilization.

4. The clay of the world was used in ancient idols. Hell’s clay is used for cinema. Old-fashioned idols can be called khaki idols.

Because their idols were made of the clay of the world, cinema is an idol of ashes because it is made of the clay of hell. Where nothing but ashes can happen.

Here, Allama Iqbal has strongly criticized cinema because it has created a new form of trade by using magic methods. Makes crores of rupees, it has a bad effect on morals, so it is fair to say that the idol house of the cinema is made of hell

allamaiqbal

I am Sabraiz, WordPress and SEO Expert. I love Allama Iqbal's poems, ghazals, and Poetry. You can message me through the contact us page for any query. I would love to answer it!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *