iblees ki majlis shoora | Allama Iqbal poem ابلیس کی مجلس شوریٰ

iblees ki majlis e shoora

iblees ki majlis e shoora

ابلیس کی مجلس شوریٰ

( 1936 ء )
ابلیس

یہ عناصر کا پرانا کھیل ، یہ دنیاۓ دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں !
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کار ساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں
میں نے دِ کھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دَیر و کلیسا کا فسوں

iblees ki majlis e shoora

میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہوا ابلیس کا سوزِ دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اُس نخلِ کہن کو سرنگوں !

 

پہلا مشیر

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوۓ خوۓ غلامی میں عوام
ہے ازَل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام
آرزو اوّل تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں

ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
طبعِ مشرق کے لیے موذوں یہی افیون تھی
ورنہ ‘ قوالی ‘ سے کچھ کم تر نہیں ‘ علم کلام ‘ !

Read Allama Iqbal Love Poetry in urdu

ہے طوافِ و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئ مومن کی تیغِ بے نیام
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید ؟
‘ ہے جہاد اس دَور میں مردِ مسلماں پر حرام ‘ !

دُوسرا مشیر

خیر ہے سلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے باخبر !

 

پہلا مشیر

ہوں ، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو ، کیا اس سے خطر !
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب زرا آدم ہوا ہے خودشناس و خود نگر

کاروبارِ شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجودِ میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر
مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو

ہے وہ سلطان ، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن ، اندروں چنگیز سے تاریک تر !

Read Allama Iqbal poem Spain in english and urdu

تیسرا مشیر

روحِ سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اُس یہودی کی شرارت کا جوب ؟
وہ کلیمِ بے تجلی ، وہ مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دار و کتاب
کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روزِ

حساب

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا طبیعت کا فساد
توڈ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب !

چوتھا مشیر

توڈ اس کا رومتہُ الکبرے کے ایوانوں میں دیکھ
آلِ سیزر کو دِکھایا ہم نے پھر سیزر کا خوب کون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
‘ گاہ بالد چوں صنوبر ، گاہ نالد چوں رباب ‘

تیسرا مشیر

میں تو اُس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب

Allama iqbal poem

پانچواں مشیر

( ابلیس کو مخاطت کر کے )
اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم اُستوار !
تو نے جب چاہا ، کیا ہر پردگی کو آشکار
آب و گل تیری حرارت سے جہانِ سوذ و ساذ
اَبلہ جنت تری تعلیم سے داناۓ کار

تجھ سے بڑھ کر فطرتِ آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار
کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے اَبد تک سرنگون و شرمسار

گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار
وہ یہودی فتنہ گر ، وہ رُوح مزدک کا بروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار
زاغِ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہین و چرغ

کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روزگار
چھاگئ آشفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشتِ غبار
فتنئہ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے آج

کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار
میرے آقا ! وہ جہاں زیرو زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

Read Allama Iqbal poem prayer in the prison in urdu and english

Allama Iqbal poem in urdu

ابلیس

(اپنے مشیروں سے )

ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں ، کیا مہر و مہ ، کیا آسمانِ تو بتو
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
میں نے جب گرما دیا اقوامِ یورپ کا لہو

کیا امامانِ سیاست ، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو
کارگاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڈ کر دیکھے تو اس تہزیب کا جام و سبو !

دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزد کی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشترا کی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار ، آشفتہ مغز ، آشفتہ مو

 

Poem from Armaghan-i-Hijaz

ہے اگر مجھ کو خطر کوئ تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جو ظالم وضو

جانتا ہے ، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنئہ فردا نہیں ، اسلام ہے

جانتا ہُوں یہ امّت حاملِ قُرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
جانتا ہُوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یِد بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

Read Allama Iqbal famous book Armaghan-i-Hijaz

عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جاۓ آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الخَزر ! آئینِ پیغمطر سے سَو بار الحزَر

حافِظ نامُوسِ زن ، مرد آزما ، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کےلیے
نے کوئ فَغفور و خاقاں ، نے فقیرِ رہ نشیں

iblees ki majlis e shoora from Armaghan-i-Hijaz

کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف
مُنعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امِیں
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں ، اللّہ کی ہے یہ زمیں !

چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب
یہ خنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں
ہے یہی بہتر الٰہیّات میں اُلجھا رہے
یہ کتابِ اللّہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے

توڑ ڈالی جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اُس خدا اندیش کی تاریک رات
ابنِ مریم کر گیا یا زندۂ جاوید ہے
ہیں صفاتِ ذاتِ حق ، حق سے جُدا یا عینِ ذات ؟

آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے
یا مجّرد ، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات ؟
ہیں کلامُ اللّہ کے الفاظ حادث یا قدیم
اُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات ؟

کیا مسلماں کےلیے کافی نہیں اس دَور میں
یہ الٰہیّات کے ترشے ہُوۓ لات و منات ؟
تم اسے بیگانہ رکھّو عالمِ کردار سے
تابساطِ زندگی میں اس کے سب مُہرے ہوں مات

iblees ki majlis e shoora

خیر اسی میں ہے ، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوّف اس کے حق میں خوب تر
جو چھُپا دے اس کی آنکھوں سے تماشاۓ حیات

ہر نفَس ڈرتا ہُوں اس امّت کی بیداری مَیں
ہے حقیقت جس کے دِیں کی احتسابِ کا ئنات

مست رکھوّ ذکر و فکرِ صُبحگاہی میں اسے
پُختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

allamaiqbal

I am Sabraiz, WordPress and SEO Expert. I love Allama Iqbal's poems, ghazals, and Poetry. You can message me through the contact us page for any query. I would love to answer it!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *