ishq poetry in urdu | Allama Iqbal poetry on ishq

Ishq Poetry in Urdu

Ishq poetry in Urdu

دردِ عشق

اے دردِ عشق ! ہے گُہرِ آب دار تو
نا محرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تو !
پنہاں تہ نقاب تری جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفل نو کی نگاہ ہے

آئ نئ ہوا چمنِ ہست و بود میں
اے دردِ عشق ! اب نہیں لزت نمود میں
ہاں ، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو
منت پزیر نالۂ بُلبل کا تو نہ ہو !

Read Allama Iqbal poems for children in urdu

خالی شرابِ عشق سے لالے کا جام ہو
پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
پنہاں دُرونِ سینہ کہیں راز ہو ترا
اشک جگر گراز نہ غماز ہو ترا

گویا زبانِ شاعر رنگیں بیاں نہ ہو
آواذِ نے میں شکوۂ فرقت نہاں نہ ہو
یہ دور نکتہ چیں ہے ، کہیں چھپ کر بیٹھ رہ

جس دل میں تُو مکیں ہے ، وہیں چھپ کے بیٹھ رہ
غافل ہے تجھ سے حیرت علم آفریدہ دیکھ !
بویا نہیں تری نگہ نارسیدہ دیکھ
رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو

حیرت میں چھوڈ دیدۂ حکمت پسند کو
جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
یہ انجمن ہے کشتۂ نظارۂ مجاز

Read Allama Iqbal Hamdardi poem in urdu

مقصد تری نگاہ کا خلوت سراۓ راز
ہر دل مۓ خیال کی مستی سے چور ہے
کچھ اور آجکل کے کلیموں کا طُور ہے

Allama Iqbal poetry on Ishq

Allama Iqbal poetry on ishq

عشق اور موت

(ماخوز از ٹینی سن )
سہانی نمودِ جہاں کی گھڑی تھی
تبسّم فشاں زندگی کی کلی تھی
کہیں مہر کو تاجِ زر مل رہا تھا
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی
سیہ پیرہن شام کو دے رہے تھے
ستاروں کو تعلیمِ تابندگی تھی

کہیں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے
کہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھی
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا
ہنسی گل کو پہلے پہل آرہی تھی
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو

Read Allama Iqbal poetry on khudi in urdu

خودی تَشنہ کام مۓ بے خودی تھی
اُٹھی اوّل اوّل گٹھا کالی کالی
کوئ حور چوٹی کے کھولے کھڑی تھی
زمیں کو تھا دعوٰی کہ میں آسماں ہوں
مکاں کہہ رہا تھا کہ مَیں لامکاں ہوں
غَرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیارا
کہ نظّارگی ہو سراپا نظارا

ملک آزماتے تھے پرواز اپنی
جبینوں سے نورِ ازل آشکارا
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا
کہ تھی رہبری اُس کی سب کا سہارا
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کا
ملک کا ملک اور پارے کا پارا
پۓ سیر فردوس کو جا رہا تھا

ishqiya poetry in urdu

قضا سے ملا راہ میں وہ قضارا
یہ پوچھا ترا نام کیا ، کام کیا ہے
نہیں آنکھ کو دید تیری گوارا
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا

اُڑتی ہوں میں رختِ ہستی کے پرزے
بجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارا
مگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسی
وہ آتش ہے میں سامنے اس کے پارا

شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میں
وہ ہے نورِ مطلق کی آنکھوں کا تارا
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی

Read Allama iqbal Famous book bang e dara

ہنسی اس کے لب پہ ہوئ آشکارا
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر
اندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارا

بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئ وہ
قضا تھی ، شکارِ قضا ہو گئ وہ

 

allamaiqbal

I am Sabraiz, WordPress and SEO Expert. I love Allama Iqbal's poems, ghazals, and Poetry. You can message me through the contact us page for any query. I would love to answer it!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *