Biography of Joun Elia in his own words

جَون ایلیَا کی کہانی ان کی اپنی زبانی

رائگاں
وہ خوابوں اور خیالوں کا شہر تھا۔ مصحفی کی نوجوانی اسی شعر انگیز شہر کی گلیوں سے گنگناتی ہوئ گزرا کرتی تھی ۔
میں بھارت اُتر پردیش ( یوپی ) کے اسی مردم خیز شہر امروے میں پیدا ہوا ۔

اس شہر کا تقریباً ہر چوتھا آدمی اگر جَم تَم شاعر نہیں تو تک بند ضرور تھا ۔
شاعری ، تاریخ دانی ، علم و ادب کا سلسلہ ہمارے خاندان میں پشت ہاپشت سے چلا آرہا ہے ۔

میرے بابا علامہ سیّد شفیق حسن ایلیا چار بھائ تھے ۔ اور چاروں کے چاروں شاعر تھے ۔ کیسے سوختہ بخت لوگ تھے وہ بھی !
ماشاءاللہ میرے دادا، پردادا اور ان کے دادا اور پردادا بھی شاعر واقع ہوۓ تھے ۔

جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے چاروں طرف صبح سے شام تک شاعری ، تاریخ ، ادب ، مزاہب عالم اور فلسفے کا دفتر کھلا دیکھا اور بحث و مباحثے کا ایک عجیب ہنگامہ گرم پایا ۔

میں نے اپنے گھر میں دنیا کے معاملوں ، زندگی کے خارجی مسئلوں اور عملی حقیقتوں کے بارے میں کبھی کوئ گفت گو ہوتے ہوۓ نہیں سنی ۔ میں ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھا جسے دِرَم اور شِکم سے کوئ ادنٰی سے ادنٰی سروکار بھی نہ تھا ۔

جب مجھ میں شعور پیدا ہوا تو اپنے ماحول یہ صورت حال دیکھ کر میرے دل میں ایک ان جانی اُداسی کی کیفیت نے جنم لیا جو وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی چلی گئ ۔

میری اندر جو ازیت ناک احساس پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ ہمارا گھر کسی بھی لمحے تباہ ہو سکتا ہے اور یہ کہ آیندہ ہمیں شاید بھیک مانگ کر زندگی گزارنا پڑے گی ۔

عجیب بات ہے کہ اس زمانے میں بھی اصیل بوا نُورن اور دو ملازم ہمارے گھر کی خدمات سر انجام دیتے تھے لیکن یہ محض ایک بہت ہی بودا ڈراما تھا۔

joun elia famous poetry

جس کے ہدایت کار بابا نہیں بل کہ ابا جی ( ہمارے بڑے تاۓ ) تھے ۔ لیکن میں اپنے گھر کی یک سر بے بنیاد معاشی صورتِ حال کا زمے دار اپنے بابا علامہ سیّد شفیق حسن ایلیا کو قرار دیتا ہوں ۔ خُدا اُن کی مغفرت کرے ۔

ان کی علمی ، تخلیقی اور تحقیقی قلندری نے میرے معصوم زہن کو ایک عزابِ الیم میں مبتلا کر رکھا تھا۔
بابا بدنصیبی سے کئ علوم کے جامع تھے

اور کئ زبانیں جانتے تھے یعنی فارسی ، عربی ، سنسکرت ، عبرانی اور انگریزی ۔ موصوف نے اُردو اور فارسی کے علاوہ ہندی اور انگریزی میں بھی شاعری فرمائ اور عربی میں ایک کتاب ” سوط العزاب ” لکھی ۔ علمِ ہیبت ( astronomy )

سے انھیں غیر معمولی شغف تھا۔

علمِ ہیبت کے مسائل سے متعلق رصد گاہ گرینچ ( greenwich observatory ) انگلستان کے ماہرین اور مشہور فلسفی برٹرینڑرسل اور جنوبی ایشیا کی ایک رصدگاہ کے ڈائریکٹر مسٹر نرسیان سے ان کی خط کتاب ہوتی رہتی تھی۔

میں جو اُن کا قدرے تفصیل کے ساتھ زکر کر رہا ہوں تو وہ اس لیے کہ انکا زکر حقیقت میں ان کا زکر نہیں ، میری سوختہ بختی کا زکر ہے. اگر وہ میرے باپ نہ ہوتے ،

ان کے بجاۓ کوئ اور شخص کوئ اور معقول اور دنیا شناس شخص ہوتا تو میں آج وہ نہ ہوتا جو ہوں ۔

میں ایک کامیاب ترین ، صحت مند اور قابلِ رشک آدمی ہوتا اور میری زندگی عیش ہی نہیں بلکہ بے حد شان دار عیّاشی کے ساتھ گزررہی ہوتی ۔

 

joun elia sad poetry

 

میری پیڑھی کے افراد کی اکثریت نے بھی اپنی قدیم ترین خاندانی عادت اور روایت کے مطابق علم ، ادب اور شاعری سے اپنا رشتہ استوار کیا جیسے رئیس امروہوی ، کمال امروی اور انٹرنیشنل فلاسفی کانگریس کے رکن فلسفی ، علامہ سیّد محمد تقی ۔

یہ سب کے سب کامیاب رہے ، نام وری حاصل کی ۔ مگر میں غریب اول جلول قسم کا آدمی بُری طرح مارا گیا

اور وہ اس لیے کہ میں ان سب سے زیادہ خیال پسند ، مثالیہ پرست ( idealist ) اور اپنے رجحانات میں بے حد ضدی واقع ہوا تھا۔

میں نے سب سے پہلا شعر اس وقت کہا جب میں سات برس کا تھا ۔
وہ شعر یہ ہے ،

Joun elia poetry

میں نے اسی زمانے میں پہلا عشق ، پہلا ناکام عشق کیا ۔ لیکن عرضِ شوق نہیں کی اور وہ یوں کہ عرضِ شوق یا اظہارِ عشق کو میں ایک بہت ہی بے ہودہ اور غلیظ حرکت سمجھتا رہا ہوں ۔
یہاں مجھے اپنا ایک شعر یاد آرہا ہے ۔

Joun elia best poetry
عرضِ شوق یا اظہارِ عشق میرے گمان یا مزاج کے مطابق ایک بہت ہی زلیل کام ہے ۔ خدا کا شکر ہے کہ میں اظہارِ عشق جیسی حرکت کا ارتکاب کرنے کی زلت اُٹھانے سے اس لمحے تک محفوظ رہا ہوں ۔

بھائیو! یہ ایک بحث طلب بات ہے ۔ میرا خیال یہ ہے کہ عشق ہوتا نہیں ہے کیا جاتا ہے اور چوں کہ میں ایک شاعر ہوں اور عشق کے موضوع پر سب سے بڑی سند شاعر ہوتے ہیں

اس لیے آپ کو میری بات ماننا پڑے گی.

اگر عشق کے موضوع پر مجھے یعنی ایک شاعر کو سند نہیں مانا جاۓ گا تو کیا کسی آئ جی، ڈپٹی کمشنر اور ان سے بھی اُوپر جا کر کسی کمانڈر انچیف ، وزیراعظم یا کسی صدر مملکت کے قول کو سند مانا جائے گا۔

joun elia biography

 

یہ لوگ تو یک سر نا بجا طور پر وہ خوش نصیب ترین اور عام قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو نہ عشق کرتے ہیں اور نہ جنھیں عشق ہوتا ہے ۔ ان سے تو ، ان ظالموں اور قاتلوں سے تو عشق لڑایا جاتا ہے ۔

ہر بدزوق ، بے شعور ، بدباطن اور دنیادار حسینہ انھی لوگوں کو پٹانے کی فکر میں رہتی ہے ۔
میں نے حسین عورتوں کو عام طور پر بے زمیر اور لالچی پایا ہے ۔ کم سے کم مجھے تو کسی با ضمیر اور بے غرض حسینہ سے ملنے کا آج تک موقع نہیں ملا۔
میں نے کوئ اور کارنامہ انجام دیا ہو یا نہ دیا ہو مگر ایک کارنامہ ضرور انجام دیا ہے اور وہ یہ کہ میں نے حسین لڑکیوں کو بُری طرح زلیل کیا ہے ۔ اس لیے کہ مجھے ان سے میر تقی میرٓ اور اپنے معصوم ترین بھائ حضرت عبدالعزیز خالد کا انتقام لینا تھا ۔ مجھے امید ہے میرا ” خداۓ غیور ” مجھے اس کا اجر دے گا ۔
مجھے لکھنا تھا اپنے بارے میں مگر لکھنے لگا ان کے بارے میں جن کی صرف ہجوکہنی چاہیے بلکہ میں نے تو واقعی ان کے بارے میں ہجو کہی بھی ہے ۔

joun elia biography

میری شہرت کا آغاز اپنے شہر کی نوخیز نسل کی حد تک ڈراما کلب کے ایک ” ڈائریکٹر ” اور سب سے مقبول ایکٹر کی حیثیت سے ہوا ۔
اس ڈراما کلب کا نام ” جون ڈراما کلب ” تھا ۔ اس وقت میری عمر تیرا چودا برس کی تھی ۔ میں نے اس زمانے میں خود بھی ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کا نام ” خونی خنجر ” تھا ۔
جب میرا لڑک پن تھا تو میرے کچھ دوستوں نے مجھے ایک مصرع دیا اور کہا کہ اس پر تین شعر لکھو ۔ وہ مصرع مولانا صفی لکھنوی کی اس غزل کا تھا جس کا مطلع یہ ہے ،

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
زرا عمرِ رفتہ کو آواذ دینا

دراصل اس دوران میرے بڑے بھائ حضرت رئیس امروہوی کی زودگوئ کا زکر ہو رہا تھا چناںچہ وہ میری زودگوئ کا امتحان لینا چاہتے تھے ۔ بہ ہرحال میں نے اس مصرع پر ایک منٹ میں تین شعر کہے ، ان میں سے ایک یاد رو گیا ہے ،

غلط راستے پر چلی جا رہی ہے
زرا بڑھ کے دنیا کو آواز دینا

Joun Elia Educational history

 

اب میں اپنی نام نہاد تعلیم کے بارے میں کچھ عرض کروں ۔ میں انتہائ بدشوق اور کرّڑ قسم کا طالب علم رہا ہوں ۔ میں عام طور پر تھرڈ ڈویژن میں پاس ہو پاتا تھا بلکہ میں دوسرے درجے میں پاس نہیں ہوا تھا ۔

بلکہ مجھے ترقی ملی تھی یعنی پروموٹ کیا گیا تھا۔
میں ایک ابو جہل قسم کا لڑکا تھا اور اپنی جماعت کے شوقین اور محنتی ( اپنی زبان میں پڈّھو ) لڑکوں کو ہمیشہ نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔

مجھے کورس کی کتابوں سے الله واسطے کا بیر تھا اس لیے میں کورس کی کتابوں کے بجاۓ دوسری کتابیں پڑھتا تھا اور دن رات پڑھتا تھا ۔

بہ ہر حال میں نے اردو میں ایم اے کیا ۔ فارسی میں الہ آباد بورڈ سے کامل ( یعنی فارسی کا سب سے آخری امتحان ) کیا۔ فلسفے کا ” فاضل ” ہوں ۔

امروہے کے دیوبند مسلک کے دارالعلوم ” دارالعلوم ملّانہ ” سے عربی ادب ، منقولات اور معقولات میں فارغ التحصیل ہوا۔ مالانا مفتی محمود ، مولانا حفظ الرحمٰن ، مولانا محمد طاسین اور مولانا محمد عمر میمن نے بھی اسی دارالعلوم میں تعلیم حاصل کی ۔

joun elia biography

اس کے علاوہ میں نے شیعہ دارالعلوم سیّد المدارس سے ” سیّد الافاضل ” کی سند حاصل کی ۔ میں پہلوی اور عبرانی زبانیں بھی سیکھیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سیکھ کر بھُلا دی ہیں ۔

1970 ء میں کیتھولک عیسائیوں کی سیمنری میں جو گلشن اقبال میں واقع ہے ، اٹلی کے ایک عالم سے میں نے عبرانی ازسر نو سیکھی اور آفرین برحافظۂ من کہ دوبارہ تقریباً بھلا دی ۔

میری بے خوابی کی عزاب ناک بیماری نے تو مجھے اُردو تک یاد نہیں رہنے دی ۔
میں نے اُردو کے علاوہ فارسی ، پہلوی اور عربی میں بھی شاعری کی ہے جس کی کوئ بھی ادبی حیثیت نہیں ہے ۔ خود میری کونسی ادبی حیثیت ہے ؟

میں نے 1958 ء میں ایک علمی ادارے ” ادارہ زہنِ جدید ” کی بنیاد رکھی اور ایک علمی ماہنامہ ” انشا ” جاری کیا جس نے چند سال بعد ترقی یا تنزل کر کے ” عالمی ڈائجسٹ ” کا تخلص اختیار کیا ۔ 1963

joun elia biography

 

ء میں مجھے آغا خانیوں کی عالمی تحقیق اور علمی ادارے میں کام کرنے کی دعوت دی گئ ۔ اس زمانے میں مجھ سے ایک عالی مرتبت دوشیزہ شدت کے ساتھ عشق فرمارہی تھیں۔ اس لیے میں ہر کام بہت لگن سے کرتا تھا ۔

میں نے اس ادارے میں تاریخِ عرب قبلِ اسلام ، مزاہبِ عالم ، تاریخِ اسلام اور مسلم فلسفے خاص طور پر باطنی فلسفے پر متعرد کتابیں ترجمہ اور تالیف کیں ۔

Read Allama Iqbal Famous Book Baal e jibreel

1968 ء میں ایک نامناسب صورت حال کے سبب حضرت جوش ملیح آبادی نے اُردو ڈویلپمنٹ بورڈ سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ بورڈ کے ناظمِ اعلٰی جناب شان الحق حقی نے مجھے اُردو کے ” لغتِ کبیر ” کی تدوین کو فرض انجام دینے کے لیے مدعو کیا۔

وہاں میں نے 1976 ء تک کام کیا ۔ اس وقت تک اُردو لغتِ کبیر بنیادی طور پر مکمل ہو چکا تھا۔ اس کے بعد نہ وہاں حقی صاحب رہے اور نہ مولانا قائم رضا نسیم امروہوی مرحوم ۔حاصلِ کلام یہ ہے

کہ اوّل تو میں نے کچھ کیا نہیں یعنی کوئ قابلِ زکر کام اور اگر کیا بھی تو سچ بات یہ ہے کہ کرنے کی طرح نہیں کیا۔ میں اپنی نہاد اور اُفتار میں ایک یک سر جاہل ہوں ۔

joun elia biography

میں نے 1977ء سے لے کر 1979 ء تک ایک عذاب ناک زندگی گزاری ۔ اس دوران میں ہر لمحہ وجود کے جہنم میں جلتا رہا۔ 1977 ء میں عالمی ڈائجسٹ بند ہوگیا۔

اس کے کچھ دن بعد برادرِ عزیز معراج رسول مجھے ملے.
یہ ہماری پہلی ملاقات نہیں تھی لیکن میرے اعتبار سے یہ ایک بے حد اہم ملاقات تھی ۔

معراج مجھے وقت کے اس موڈ پر ملے جہاں میرا تباہ شدہ وجود لڑکھڑا کر گرنے والا تھا۔
انھوں نے مجھے سنبھال لیا. معراج رسول نے میری زاتی اور قلمی زندگی میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے ۔

میرے مجموعے کی اشاعت میں ناقابلِ قیاس تاخیر ہوئ ۔ اسے 1961 ء میں چھپنا تھا مگر 29 برس بعد ” شاید ” کے نام سے 1990ء میں چھپا۔ اس کا سبب ازیت ناک ہے ۔

joun elia biography

جب میں اپنی کسی بھی تصنیف کی اشاعت کے بارے میں سوچتا تھا تو مجھے احساس جرم ہوتا تھا اور اس کا سبب یہ ہے کہ میرے لڑکپن کے زمانے میں ایک دن موسم سرما کی سہ پہر کے وقت میرے بابا مجھے شمالی کمرے میں لے گۓ ۔

نہ جانے کیوں وہ بہت اُداس تھے ۔ میں بھی اداس ہو گیا وہ مغربی کھڑکی کے برابر کھڑے ہو کر مجھ سے کہنے لگے تم مجھ سے ایک وعدہ کو۔ میں نے پوچھا ” بتایے بابا! کیا وعدہ ؟ “

 

joun elia biography
انھوں نے کہا ” یہ کہ تم بڑے ہو کر میری کتابیں ضرور چھپواؤ گے ”
میں نے کہا ” بابا میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب بڑا ہو جاؤں گا آپ کی کتابیں ضرور ضرور چھپواؤں گا ” ۔

Read Allama Iqbal Biography in urdu and english

مگر میں بابا سے کیا ہوا یہ وعدہ پورا نہیں کر سکا ، میں بڑا نہیں ہو سکا اور میرے بابا کی تقریباً تمام تصنیفات ضائع ہو گئیں ۔ بس چند متفرق مسودے رہ گۓ ہیں ۔ یہی وہ احساسِ جرم ہے جس کے سبب میں اپنے کلام کی اشاعت سے گریزاں ہی نہیں ، متنفر رہا ہوں ۔

دن میں ایسا وقت بہت کم گزرتا ہے جب مجھے اپنی شاعری پسند آتی ہو، میری تخلیقی زندگی کا زیادہ حصّہ اپنے انکار میں گزرا ہے بلکہ اب تو میں یہ سوچتا ہوں کہ میں شاعر ہوں بھی یا نہیں ۔مجھے لکھنا آتا بھی ہے یا نہیں ۔

بہ ہر حال میرے بارے میں ایک بات یقینی اور حتمی ہے اور وہ یہ کہ میں ایک نکما اور ناکام ترین آدمی ہوں ۔ میں بُری طرح رائگاں گیا۔

میں بھلا آپ کو کیسے بتاؤں کہ میں کس بُری طرح رائگاں گیا۔
آپ کو سالِ نو مبارک ہو ۔ لیجیے شعر ہو گیا ۔
؃

عشرتِ حالِ نو مبارک ہو
آپ کو سالِ نو مبارک ہو
؁

سسپنس جنوری 1996

 

Read More About Joun Elia